Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور کافر یہ بھی کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم اہل جہنم میں سے نہ ہوتے۔
(10) اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم اہل جہنم میں سے نہ ہوتے۔ یعنی اگر ہم پیغمبروں کی بات کو سنتے اور ان کے کہنے کو قبول کرتے اور مانتے تو آج کے دن اہل دوزخ اور اصحاب سعیر سے نہ ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پیغمبروں کے وعد وعید کو طالب حق کا ساسننا سنتے اور مقاتل متفکر کی طرح ان میں غور کرتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ بہرحال دوہی چیزیں ہیں ایک سننا اور سمجھنا اور بدقسمتی سے یہ دونوں کا انکارکریں گے نہ سنا نہ سمجھا اور بالآخر اس دہاڑے کو پہنچے کہ آج دوزخ والوں کے ساتھ جہنم میں پڑے ہیں۔ حضرت حق تعالیٰ ان کے اقرار اور اعتراف کا آگے کی آیت میں اظہار فرماتے ہیں۔
Top