Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے
وقالوا . گزشتہ قالوا پر عطف ہے۔ لو کنا نسمع . یعنی اگر ہم بغیر عناد کے گوش قبول سے سنتے اور سنی ہوئی دلیلوں سے جو حقانیت ثابت ہو رہی تھی ‘ اس کو مان لیتے۔ او نعقل . یعنی ایسے عقلی دلائل وبراہین پر غور کرتے جو اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور اللہ کے پیام پر ایمان لانے کو ضروری قرار دینے والے ہیں۔ نسمع کو نعقل سے پہلے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دلائل سمعیہ براہین عقلیہ سے زیادہ واجب التسلیم اور زیادہ صحیح ہوتے ہیں۔ تنہا عقل (حق و صداقت کو پالینے کے لیے) کافی نہیں ہے۔ آیت سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ عقل صحیح (یعنی وہ عقل جو آمیزش وہم سے پاک ہو) وحی کے مطابق ہوتی ہے ‘ یہ بھی احتمال ہے کہ اَوْ کا لفظ (تردید کے لیے نہ ہو بلکہ) واو (عاطفہ) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہو یعنی اگر ہم نذیر کے کلام کو سن لیتے اور اس کے معنی کو سمجھ لیتے اور بصیرت اندوز لوگوں کی طرح اس پر غور کرلیتے تو آج دوزخ میں نہ ہوتے۔ ما کنا فی اصحاب السعیر . یعنی دوزخیوں میں ہمارا شمار نہ ہوتا۔ ہم ان میں سے نہ ہوتے۔
Top