Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسی (شخص) نے اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے،30۔ تو اللہ اگر چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے، اور اللہ باطل کو مٹایا کرتا ہے اور حق کو اپنے احکام سے ثابت کیا کرتا ہے وہ دلوں تک کی باتیں خوب جانتا ہے،31۔
30۔ (اور نعوذ باللہ وحی ونبوت کا دعوی خلاف واقع کردیا ہے) 31۔ (چہ جائیکہ زبان سے ادا ہونے والے الفاظ واقوال) مطلب یہ ہوا کہ اگر اس احتمال میں شائبہ بھی صداقت کا ہوتا، تو اللہ ایسے مدعی کاذب کو پھلنے پھولنے، کامیاب ہونے ہی کیوں دیتا۔ اس کی زبان سے ادا ہونے والے خارق عادت پیام کو پھیلنے کا موقع ہی نہ دیتا اور مدعی کاذب کی زبان ہی خاموش کردیتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، بلکہ وہ تو اس کے برعکس ان رسول کے ہاتھ تائیدی معجزات سے اور زیادہ قوی کرتا جاتا ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ یہ سرتا سر حق و صداقت پر ہیں۔ اور جو دلوں کے اندر تک کے بھید جانتا ہو۔ اس کے لئے الفاظ ظاہر پر گرفت کرنا کیا مشکل تھا۔ (آیت) ” بکلمتہ “۔ کلمات سے یہاں مراد احکام تکوینی وتنزیلی دونوں ہیں۔
Top