Al-Qurtubi - Ash-Shura : 26
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَيَسْتَجِيْبُ : اور جواب دیتا ہے الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے وَيَزِيْدُهُمْ : اور زیادہ دیتا ہے ان کو مِّنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ شَدِيْدٌ : عذاب شدید
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کی (دعا) قبول فرماتا اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے
(آیت نمبر 26 ) الذین محل نصب میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس آدمی کی عبادت قبول فرماتا ہے جس نے دل کے اخلاص کے ساتھ عبادت کی ہو اور اپنے بدن کے ساتھ اطاعت کی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی عرضداشت کو قبول فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومنوں کے حق میں ایک دوسرے کی دعا قبول فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اجاب اور استجاب کا ایک معنی ہے۔ سورة بقرۃ میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ مومنوں کی ایک دوسرے کے حق میں شفاعت قبول فرماتا ہے ویزیدھم من فضلہ کا معنی ہے وہ ان کے بھائیوں کے حق میں سفارش قبول فرماتا ہے (3) ۔ مبردنے کہا : ویستبیب الذین امنوا کا معنی ہے ولیستد الذین آمنوا الا جابۃ باب استفعال کے معنی میں طلب پائی جاتی ہے الذین محل رفع میں ہے۔
Top