Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 26
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَيَسْتَجِيْبُ : اور جواب دیتا ہے الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے وَيَزِيْدُهُمْ : اور زیادہ دیتا ہے ان کو مِّنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ شَدِيْدٌ : عذاب شدید
اور دعا سنتا ہے ایمان والوں کی جو بھلے کام کرتے ہیں اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے6  اور جو منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے
6 یعنی نبی خدا کا پیغام پہنچاتا ہے، تم جھوٹ سمجھو یا سچ، اس کے بعد بندوں کا سارا معاملہ خدا سے ہر ایک بندہ سے دنیا اور آخرت میں اس کے حال و استعداد کے موافق معاملہ ہوتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور باوجود سب کچھ جاننے کے کتنی برائیوں سے درگزر کرتا ہے جو ایماندار اور نیک بندے اس کی بات سنتے ہیں وہ ان کی دعائیں سنتا اور ان کی طاعات کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور جس قدر اجر وثواب کے وہ عام ضابطہ سے مستحق ہوں اپنے فضل سے اس سے کہیں زائد مرحمت فرماتا ہے۔ رہ گئے منکر اور پکے کافر جن کو مرتے دم تک رجوع و توبہ کی توفیق میسر نہیں ہوتی ان کا انجام اگلے جملہ میں مذکور ہے۔
Top