Urwatul-Wusqaa - At-Tawba : 128
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَيَسْتَجِيْبُ : اور جواب دیتا ہے الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے وَيَزِيْدُهُمْ : اور زیادہ دیتا ہے ان کو مِّنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ شَدِيْدٌ : عذاب شدید
اور (وہی ہے) جو (سب کی) دُعائیں سنتا ہے ان کی بھی جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ دیتا ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے
ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کو وہ اپنے فضل سے نوازے گا 26 ؎ کوئی شخص بھی جب ایمان لانے کے بعد ربِّ ذوالجلال والا کرام سے اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی چاہتا ہے تو یقینا وہ اس کو معاف کردیتا ہے اس لیے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کو قبولیت بخشتا ہے اور نیک عمل کرنے والوں کے برے اعمال کو وہ مٹا دیتا ہے۔ توبہ کرنے سے پہلے انہوں نے جو کچھ بھی کیا اس میں سے اگر وہ حقوق العباد کے متعلق ہے تو وہ ایمان لانے کے ساتھ اس کا احساس کریں گے کہ اپنی زیادتیوں کی اصلاح کرتے ہوئے ان لوگوں سے معاف کرا لیں جن سے انہوں نے زیادتی کی ہے اور حقوق اللہ میں سے اللہ ربِّ کریم کا پہلے ہی اعلان موجود ہے کہ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کی میں توبہ قبول کرتا ہوں تو وہ یقینا ان کے یہ گناہ معاف کر دے گا جب تک اس دنیا کی زندگی میں وہ زندہ ہیں کسی وقت بھی اپنی اصلاح توبہ سے کرسکتے ہیں اور رہے وہ لوگ جو اپنے کفر پر قائم رہنا چاہتے ہیں یا اب وہ کفر کے ساتھی بن رہے ہیں تو ان کی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں اور کوئی نہیں جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے بلاشبہ جو دل کے زندہ ہیں وہ اس دعوت کو قبول کریں گے اور جن کے دل مردہ ہو چکی ہیں اگر وہ آج نہیں سمجھ رہے تو یقینا آنے والے کل کو وہ بھی جان جائیں گے۔ اس کی مزید وضاحت دیکھنا مطلوب ہو تو عزوۃ الوثقی جلد سوم ، سورة الانعام کی آیت 36 کا بغور مطالعہ کریں اور اس کی تفسیر دیکھیں۔
Top