Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 26
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَيَسْتَجِيْبُ : اور جواب دیتا ہے الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے وَيَزِيْدُهُمْ : اور زیادہ دیتا ہے ان کو مِّنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ شَدِيْدٌ : عذاب شدید
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے
توبہ کرنے والوں سے اللہ کتنا خوش ہوتا ہے 25، تو نازل ہوا، وھوالذین یقبل التوبۃ عن عبادہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے اس کے اولیاء اور اہل طاعت مراد ہیں۔ کہا گیا ہے کہ توبہ نیت اور عمل سے گناہوں کو چھوڑنا اور نیت اور عمل سے عبادت پر متوجہ ہونا ہے۔ سہل بن عبد اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ توبہ مذموم احوال سے محمود احوال کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے۔ ، ویعفوا عن السیئات ، جب وہ تو نہ کرلیں تو وہ ان سے مؤ اخذہ نہیں کرے گا۔ حارث بن سوید (رح) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ میراخیال ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جو جنگل بیابان میں ہو اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، اس پر اس کا کھانا پینا ہو تو وہ کہیں اتر کرسوگیا، جب وہ بیدارہواتو اس کی سواری گم ہوچکی تھی تو وہ اس کی تلاش میں ادھر ادھر چکرلگا تارہایہاں تک کہ اس کو سخت پیاس لگی تو وہ کہنے لگا جہاں میری سواری گم ہوئی تھی میں وہاں جاکرمرجاتا ہوں تو وہ لوٹا تو اس کو غشی آگئی۔ پھر ہوش آیاتو اس کے پاس اس کا کھانا پینا۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے جب وہ توبہ کرے اس سے زیادہ خوشی ہوتے ہیں جو تم میں سے کوئی ایک اس وقت خوش ہو جب وہ اپنی سواری پر صحراء میں ہو اور وہ سواری اس سے جدا ہوجائے۔ اس پر اس کا کھانا اور پینا ہو تو وہ اس سے ناامید ہوگیا اور ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا اور تحقیق وہ اپنی سواری سے ناامید ہوچکا تھا ۔ پس وہ اسی حالت میں تھا کہ وہ سواری اس کے کھڑی تھی تو اس نے اس کی لگام پکڑلی۔ پھر خوشی کی انتہا کی وجہ سے کہنے لگا، اے اللہ ! تو میرابندہ اور میں تیرارب ہوں ، اس بندہ نے فرط مسرت سے غلطی کردی۔ ، ویعفواعن السیئات ، پس وہ اس کو مٹادے گا جب وہ توبہ کریں گے۔ ، ویعلم ماتفعلون، حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ، تفعلون، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ مشرکین کو خطاب ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس لیے کہ یہ جملہ قوم کے متعلق دوخبروں کے درمیان ہے۔ اس جملہ سے پہلے کہا ، یقبل التوبۃ عن عبادہ، اور اس کے بعد کہا، ویزیدھم من فضلہ،
Top