Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو مصیبت بھی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے سے پہنچتی ہے، اور (اللہ) بہت سے تو درگزر کردیتا ہے،36۔
36۔ خطاب عاقل بالغ اہل ذنوب سے ہے۔ بچے، مجنون وغیرہ اس سے خارج ہیں خطاب مع من یفھم ویعقل فلا یدخل فیہ البھائم والاطفال (کبیر) (آیت) ” ما ..... من مصیبۃ “۔ سے یہاں واقعہ و حقیقی مصیبت مراد ہے۔ بعض نعمتیں جو صرف صورۃ ہی مصیبتیں ہیں وہ درحقیقت عیش کے زینہ ہیں، ان پر مصیبت کا اطلاق ہی نہ ہوگا۔ (آیت) ” یعفوا عن کثیر “۔ کثیر سے مراد کثیر من الذنوب بھی ہوسکتی ہے یعنی بہت سے گناہ بےگرفت ومؤاخذہ کے بھی چھودیتا ہے اور کثیر من الناس بھی مراد ہوسکتی ہے، یعنی گرفت ہر بندہ پر نہیں کرتا۔ بہت سے بندوں کو بےگرفت ومواخذہ بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اے من الذنوب اوعن کثیر من الناس (مدارک) اے عن الذنوب وجوز کون المراد بالکثیر کثیر من الناس (روح)
Top