Tafseer-e-Mazhari - An-Nahl : 71
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی۔ اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
ولقد زینا السما الدنیا . یعنی نچلا آسمان جو زمین سے (بہ نسبت دوسرے آسمان کے) قریب ہے۔ بمصابیح . مصابیح سے مراد ہیں ستارے ‘ یہ تاریکی کے چراغ ہیں ‘ ان سے راستہ مل جاتا ہے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ تمام تارے دنیاوی آسمان میں پیوست ہیں ‘ اس صراحت کے خلاف علماء فلکیات کا قول بےدلیل ہے ‘ ستاروں کی حرکات کے تعدد سے ہر ستارہ کے لیے جدا فلک ہونے پر استدلال کرنا نامکمل ہے۔ جب تک آسمان کا فرق ٗوالیتام (پھٹنا اور جڑنا یعنی عنصری اجسام کی طرح اس کے اندر تو ڑجوڑ ہونا) محال ثابت نہ کردیا جائے اس وقت تک (ضخامت فلک کے اندر ستاروں کی پیوستگی اور سیر کا محال ہونا اور) ہر ستارہ کا خصوصی فلک ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ جسم آسمان کا توڑ جوڑ عقلاً جائز ہے اور شرعاً ضروری۔ وجعلنا ھا رجوما للشیطان . یعنی شیاطین جب (ملائکہ کی باتیں) چوری سے سننا چاہتے ہیں تو ان کے مارنے کے لیے ستاروں کو ہم نے آتشی پتھر بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ستارے اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطانوں پر پتھروں کی طرح برستے ہیں بلکہ ان سے مجسم شعلے ٹوٹ کر شیطانوں پر پڑتے ہیں۔ واعتدنا لھم . اور آخرت میں ہم نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ عذاب السعیر . دھکتی آگ کا عذاب۔ اِس کلام میں شیاطین کے عذاب کا ذکر آیا تھا ‘ اس لیے اس سے متصل عام کافروں کے عذاب کا ذکر فرمایا کیونکہ شیطان بھی کافروں کے گروہ میں شامل ہیں اور کافر بھی شیطانوں کے بھائی ہیں ‘ فرمایا :
Top