Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 70
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ
اَمْ : یا يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں بِهٖ : اس کو جِنَّةٌ : دیوانگی بَلْ : بلکہ جَآءَهُمْ : وہ آیا ان کے پاس بِالْحَقِّ : ساتح حق بات وَاَكْثَرُهُمْ : اور ان میں سے اکثر لِلْحَقِّ : حق سے كٰرِهُوْنَ : نفر رکھنے والے
یا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر کوئی جنون کا اثر ہے۔ نہیں، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ط بَلْ جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ وَاَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ ۔ (المومنون : 70) (یا وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر کوئی جنون کا اثر ہے۔ نہیں، بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔ ) ایک بیہودہ الزام قریش کا آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہ کرنے کا سبب شاید یہ ہو کہ قریش کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو جنون کا مرض لاحق ہوگیا ہے۔ چناچہ وہ اپنے اس مرض کے زیر اثر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان پر اللہ کی وحی اترتی ہے حالانکہ جب انھیں اس بیماری کا دورہ پڑتا ہے تو ان کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے وہ اسے اللہ کی وحی سمجھنے لگتے ہیں۔ جو شخص بھی آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ کا سرسری مطالعہ بھی رکھتاہو، وہ اس بات کو سن کر حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا قریش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے سمجھدار لوگ تھے لیکن ان کی یہ بات تو نہایت احمقانہ ہے۔ لیکن جس شخص کی نگاہ حسد اور بغض کے محرکات اور آثار و نتائج پر ہو اور وہ کسی حدتک انسانی نفسیات کو سمجھتاہو تو اسے اس میں کوئی حیرانی محسوس نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور کے مستشرقین جنھیں علوم مشرقیہ اور علوم اسلامیہ پر دسترس کا دعویٰ ہی نہیں بلکہ وہ رات دن تحقیق کے کام میں مصروف ہیں اور انھوں نے پر اپیگنڈہ کے زور سے بہت حد تک اپنی غیرجانبداری کو لوگوں کے دلوں میں اتار رکھا ہے، وہ بھی یہ بات کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کو مرگی کا دورہ پڑتا تھا اور وہ اور ان کے دیکھنے والے اسے نزول وحی کی کیفیت سمجھتے تھے۔ اور مرگی چونکہ جنون ہی کی ایک قسم ہے ایسا مریض بعض دفعہ اول فول بھی بکنے لگتا ہے اور بعض چیزیں اس کے تصور میں لہرانے بھی لگتی ہیں۔ تو وہ اسی کیفیت کے نتیجے کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا باعث سمجھتے ہیں۔ اندازہ فرمائیے ! نبی کریم ﷺ کی زندگی نبوت سے چالیس سال پہلے اور نبوت سے تئیس سال بعد لوگوں کے سامنے گزری ہے۔ دوست اور دشمن اس کے گواہ ہیں۔ نبوت سے پہلے کی زندگی میں آپ نے کاروبار بھی کیا، لوگوں کے معاملات میں شریک بھی رہے، قریش کا کوئی اجتماعی مفاد ایسا نہیں جس میں آپ نے اپنا فرض ادا نہ کیا ہو، غریبوں بےکسوں اور بیوائوں کے گھر آپ کی مدد اور تعاون سے روشن رہے اور کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے حقوق کی واپسی میں آپ نے اپنا فرض انجام دیا۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایسی مصروف معاشرتی زندگی میں قریش نے ہمیشہ آپ کو نمونے کا بےعیب آدمی سمجھا اور ہمیشہ آپ کی ہوش مندی اور دانائی کی مثالیں دی جاتیں اور الجھے ہوئے معاملات میں آپ کی معاملہ فہمی پر بھروسہ کیا جاتا اور کبھی کسی کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ تصور پیدا نہ ہوا کہ آپ کو کوئی جنوں لاحق ہے۔ اسی طرح نبوت کے بعد کی تئیس سالہ زندگی دشمنوں اور دوستوں میں اس طرح گزری کہ ہر ایک نے آپ کی اصابتِ فکر اور غیر معمولی حالات میں آپ کی استقامت انتہائی مایوس کن حالات میں آپ کا حیران کن یقین واذعان نہایت محدود افرادی قوت کے ساتھ چند ہی سالوں میں جزیرہ عرب کی قسمت کو بدل ڈالنے والا انقلاب اور آپ کی زبان مبارک سے نکلنے والے جواہر پارے اپنی حکمت و دانش میں آج تک انسانی سطح سے بالا اور آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے بےپناہ اثرات آج تک انسانیت کا سب سے بڑا سرچشمہ، کیا ایسا ہوتا ہے جنون ؟ اور کیا ایسے ہوتے ہیں وہ اثرات جو جنون سے پیدا ہوتے ہیں ؟ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قریش کے انکا رکا سبب یہ جنون کا الزام نہ تھا بلکہ سبب کچھ اور تھا۔ ؎ سبب کچھ اور ہے تو خود جسے سمجھتا ہے مخالفت کا حقیقی سبب وہ سبب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کے پاس وہ حق اور سچائی لے کر آئے ہیں جو ان کی اکثریت کو ناگوار گزرتی ہے۔ یہ خواہشاتِ نفس کے اسیر، مال و دولت اور عہدہ ومنصب کی ہوس کے شکار اور اپنی ہی ذات کے گنبد میں بند رہنے والے جب یہ دیکھتے ہیں کہ انھیں ایثار و قربانی اور اللہ کی بندگی کی طرف بلایا جارہا ہے جبکہ ان کی زندگی اس کے بالکل برعکس دوسری طرح سے گزر رہی ہے۔ وہ اپنی بےبسی اور نارسائی کو چھپانے کے لیے داعی الی الحق کو مختلف الزامات کا نشانہ بنانے لگتے ہیں، جس طرح ایک مریض جب طبیب کی تشخیص کردہ دوائوں کو کڑوی اور کسیلی دیکھتا ہے اور وہ انھیں حلق سے نیچے اتارنا نہیں چاہتا تو وہ خود کو مریض تسلیم کرنے کی بجائے الٹا طبیب ہی کے مشورے کو ہذیان قرار دینے لگتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے۔
Top