Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 71
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ
وَلَوِ : اور اگر اتَّبَعَ : پیروی کرتا الْحَقُّ : حق (اللہ) اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات لَفَسَدَتِ : البتہ درہم برہم ہوجاتا السَّمٰوٰتُ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضُ : اور زمین وَمَنْ : اور جو فِيْهِنَّ : ان کے درمیان بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت فَهُمْ : پھر وہ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے مُّعْرِضُوْنَ : روگردانی کرنے والے ہیں
اور اگر کہیں حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کا اپنا ذکر لے کر آئے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں
وَلَوِا تَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَآئَ ھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ ط بَلْ اَ تَیْنٰھُمْ بِذِکْرِھِمْ فَھُمْ عَنْ ذِکْرِھِمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (المومنون : 71) (اور اگر کہیں حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کا اپنا ذکر لے کر آئے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔ ) گزشتہ بات کی وضاحت قریش اور دیگر مخالفین کی جانب سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جتنے امکانات یا جتنے دعوے ہوسکتے تھے، گزشتہ آیات میں ان میں سے ایک ایک کا ذکر فرماکر یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں سے کوئی بات بھی آنحضرت ﷺ کی مخالفت کا اصل سبب نہیں بلکہ اصل سبب دو باتیں ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ قریش اور دیگر مشرکین نے اپنے طور پر دین کے بارے میں کچھ تصورات بنا لیے ہیں اور زندگی گزارنے کا ایک خاص خانہ ساز طریقہ اپنا لیا ہے۔ اب ان کی خواہش یہ ہے کہ جو شخص بھی انسانی اصلاح کا مقصد لے کر اٹھے تو اسے وہی باتیں پیش کرنی چاہئیں جو انھوں نے پہلے سے اختیار کررکھی ہیں اور جس سے مختلف کسی بات کو نہ یہ سننے کے لیے تیار ہیں اور نہ قبول کرنے کے لیے جبکہ ان کی اختیار کردہ باتوں کے پیچھے نہ کوئی فلسفہ کام کررہا ہے اور نہ کوئی زندگی کا مخلصانہ گہرا تجربہ۔ بس ان کی چند خواہشات ہیں جن سے انھوں نے اپنی فکر کا ایک سانچہ تیار کیا ہے، اسی کے مطابق انھوں نے چند عقائد اختیار کرلیے ہیں اور جائز و ناجائز، حلال و حرام اور حسن وقبح کے معیارات میں بھی ان کی خواہشات اور مفادات نے بنیادی کردار ادا کیا ہے لیکن اللہ کا رسول جب اللہ کی طرف سے زندگی کی حقیقی صداقتوں اور واقعی حقائق کو ان کے سامنے واشگاف کرتا ہے اور ان کی اصل حیثیت کو ان کے دل و دماغ میں اتارتا ہے اور زندگی کو مہلت عمل قرار دے کر آخرت کے شعور کو ان کے سامنے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو وہ اپنے مزعومہ تصورات کو اٹل اور حتمی سمجھتے ہوئے اللہ کے رسول کی ہر بات کی مخالفت کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ زندگی کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ اس کا کوئی بلند مقصد نہیں۔ یہ درحقیقت خواہشاتِ نفس کو اپنی اپنی ہمت کے مطابق بروئے کار لانے کا ذریعہ ہے۔ جو شخص یہاں اپنی ہمت، صلاحیت اور قابلیت سے اپنی خواہشات کی مملکت بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، وہ دنیا میں ایک کامیاب انسان ہے اور جو ایسا نہیں کرسکتا وہ ایک ناکام شخص ہے۔ اللہ کا رسول جب انھیں زندگی کے مقاصد کی طرف بلاتا ہے جو قدم قدم پر خواہشاتِ نفس کی قربانی مانگتے ہیں تو یہیں سے تصادم شروع ہوجاتا ہے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہاں بالا دستی اور حکمرانی کا حق خواہشِ نفس کو ہونا چاہیے۔ یہاں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں۔ کیا چیز اچھی ہے اور کیا بری ؟ اور کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے ؟ سراسر جذباتی اور کتابی باتیں ہیں۔ جن کا کتاب زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ اگر ان کے تصورات کے مطابق حق کو خواہشِ نفس کے تابع کردیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اخلاق تباہ ہوجائیں گے۔ انسانی قدریں پامال ہوجائیں گی۔ نیکی کا تصور مٹ جائے گا۔ خیر کی جگہ شر، عدل کی جگہ ظلم، نیکی کی جگہ بدی، امانت کی جگہ خیانت اور اس سے بڑھ کر توحید کی جگہ شرک اور قیامت کی بجائے انکارِ قیامت جیسے تصورات کا چلن عام ہوجائے گا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کائنات تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ شر کی سرافرازی، ظلم کی بالا دستی، خیانت کی کارفرمائی اور بدی کی حکمرانی سے یہ دنیا درندوں کا بھٹ بن کر رہ جائے گی۔ آیتِ کریمہ کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ حق ہوائے نفس کی پیروی کرنے لگے کیونکہ ایسا کرنے سے زمین و آسمان کی ہر چیز تباہ ہوجائے گی۔ البتہ ! انسانی فلاح وبقا کا راستہ یہ ہے کہ ہوائے نفس کو حق کے تابع بنادیاجائے۔ عدل کو ظلم کے تابع کرنے سے تو ظلم بڑھتا ہے اور انسانی خوشیاں غموں میں ڈوب جاتی ہیں اور حقوق محرومیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر ظلم کو عدل کے تابع کردیا جائے تو محرومیاں شادمانیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور غم واندوہ کے بادل مسرتوں کے سایوں میں بدل جاتے ہیں اور یہ تبدیلی اس وقت آتی ہے، جب انسانی معاشرہ اس بات کو قبول کرلے کہ دنیوی زندگی مہلت عمل ہے۔ ہر عمل کی صورت گری انبیائے کرام کی تعلیم اور اللہ کی کتابوں کی رہنمائی سے ہوتی ہے۔ اس لیے پروردگار نے ہر دور میں اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں اور انسانوں کے دل و دماغ میں یہ بات اتاری کہ یہ تمہاری چند سالہ زندگی آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کے لیے کامیابی یا ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔ اس لیے ہر رسول ہر دور کے لوگوں کے لیے یاد دہانی لے کر آتا ہے کہ اس زندگی کی نعمتوں کو حاصل زندگی سمجھ کر عیش و عشرت کا ذریعہ نہ بنائو بلکہ جو تمہیں زندگی کے بلند مقاصد بخشے گئے ہیں ان کے حصول کے لیے اس زندگی کو استعمال کرو۔ لیکن قریش اور دیگر باطل پرستوں کا حادثہ یہ ہے کہ وہ اپنے حصے کی یاددہانی کی طرف توجہ دینے کی بجائے اس سے منہ پھیر رہے اور مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ ذکر کا ایک اور معنی تاریخ اور کہانی بھی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تمہارے سامنے گزشتہ انبیائے کرام کی دعوت اور معذب قوموں کی تکذیب کی تاریخ بیان کی ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف اللہ کا رسول آتا ہے تو وہ ان کے سامنے دین کی صورت میں ایک ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ اگر وہ قوم اسے قبول کرکے اپنی زندگی کا دستور بنالیتی ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیا کی حکمرانی اور آخرت کی فلاح و کامرانی سے نوازتا ہے۔ لیکن اگر وہ اللہ کے رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد اس قوم پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے اور وہ قوم تباہ کردی جاتی ہے۔ یہ انسانوں کی تاریخ اور انسانیت کی کہانی ہے۔ جو ہر دور میں پیش آتی رہی ہے۔ اب نبی کریم ﷺ پھر اسی ذکر اور کہانی کو لوگوں کے سامنے دہرا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی دنیا وعاقبت کو سنوار لیں۔ بصورتِ دیگر ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلی معذب قوموں کا ہوچکا ہے۔ اسی بات کو قرآن کریم نے ایک اور جگہ دہراتے ہوئے ارشاد فرمایا : لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ اقبال مرحوم نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے کہا ؎ محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
Top