Tafseer-e-Usmani - Al-Kahf : 26
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ
اَمْ : یا يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں بِهٖ : اس کو جِنَّةٌ : دیوانگی بَلْ : بلکہ جَآءَهُمْ : وہ آیا ان کے پاس بِالْحَقِّ : ساتح حق بات وَاَكْثَرُهُمْ : اور ان میں سے اکثر لِلْحَقِّ : حق سے كٰرِهُوْنَ : نفر رکھنے والے
یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی بات اور ان بہتوں کو سچی بات بری لگتی ہے7
7 یعنی سودائیوں اور دیوانوں کی باتیں کہیں ایسی کھری اور سچی ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بھی محض زبان سے کہتے تھے، دل ان کا جانتا تھا کہ بیشک جو کچھ آپ لائے ہیں حق ہے۔ پر حق بات چونکہ ان کی اغراض و خواہشات کے موافق نہ تھی۔ اس لیے بری لگتی تھی اور قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتے تھے۔
Top