Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 70
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ
اَمْ : یا يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں بِهٖ : اس کو جِنَّةٌ : دیوانگی بَلْ : بلکہ جَآءَهُمْ : وہ آیا ان کے پاس بِالْحَقِّ : ساتح حق بات وَاَكْثَرُهُمْ : اور ان میں سے اکثر لِلْحَقِّ : حق سے كٰرِهُوْنَ : نفر رکھنے والے
یا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں جنون ہے،63۔ نہیں بلکہ یہ (رسول) ان کے پاس حق لے کر آئے اور ان میں سے اکثر حق (ہی) سے نفرت رکھتے ہیں،64۔
63۔ نہیں بلکہ اس کے برعکس لوگ تو آپ کی اصابت رائے کے فہم وذکاوت کے پوری طرح قائل تھے۔ سو اس وجہ کا بھی باطل ہونا بالکل ظاہر ہے۔ حیرت اور حیرت سے زیادہ عبرت کا مقام ہے کہ عرب کے ان جاہلین کے بالکل قدم بقدم آج یورپ کے جاہلین جدید بھی، ایک طرف آپ کے کمال حکمت و دانائی کے قائل ہیں یہاں تک کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی حکمت وخوش تدبیری سے قرآن نامے ایک جامع کتاب گڑھ لی، سارے ملک عرب کی بیسیوں ٹکڑیوں اور ٹولیوں کو متحد کرلیا۔ سب کو ایک دین کا پابند بنالیا۔ بڑے بڑے پر قوت دشمنوں، مشرکین و یہود وغیرہ پر غالب آآگئے وقس علی ہذا۔ ایک طرف تو آپ کی دانائی، فرزانگی، خوش تدبیری کا اعتراف اس زور شور سے ہے اور دوسری طرف آپ کو (نعوذ باللہ) نیم مجنون وصرع زدہ بتانے پر بھی اصرار جاری ہے ! 64۔ سو اصل وجہ ان فرض کی ہوئی وجوہ میں سے کوئی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں حق ہی سے بیزاری ہے اور طلب حق تو ان میں کیا ہوتی، الٹی اس سے ہے کہ انہیں حق ہی سے بیزاری ہے اور طلب حق تو ان میں کیا ہوتی، الٹی اس سے نفرت ہے۔
Top