Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 19
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠   ۧ
اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ : مہربان ہے اپنے بندوں پر يَرْزُقُ : رزق دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَهُوَ الْقَوِيُّ : اور وہ قوت والا ہے الْعَزِيْزُ : غلبے والا ہے
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بخشتا ہے وہ بڑی قوت والا ہے اور زبردست ہے
اَللّٰہُ لَطِیْفٌ م بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ ج وَھُوَالْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ۔ (الشوری : 19) (اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بخشتا ہے وہ بڑی قوت والا ہے اور زبردست ہے۔ ) نافرمانوں کو ڈھیل دینے کی حکمت گزشتہ آیت کے مضمون پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جو لوگ قیامت پر واضح دلائل کے باوجود ایمان نہیں لاتے بلکہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگ اس قابل نہیں کہ انھیں مہلت دی جائے، انھیں تو فوری سزا ملنی چاہیے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت لطیف یعنی مہربان ہے۔ اور یہ مہربان کا لفظ بھی اس کی رأفت کے مضمون کو واضح نہیں کرتا۔ اسی رأفت کا نتیجہ ہے کہ کچھ لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے جبکہ اس پر دلائل بالکل واضح ہیں اور پھر اس کا مذاق بھی اڑاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انھیں مہلت پہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی کسی ضرورت کو روکنا بھی گوارا نہیں فرماتا۔ نہایت باریک بینی سے ان کی تمام ضرورتوں کو پورا فرماتا ہے اور اپنے خزانوں سے جتنا چاہتا ہے رزق عنایت فرماتا ہے۔ عذاب لانے میں جلدی نہ کرنا اور گرفت میں مہلت دیتے چلے جانا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ قوی اور غالب ہے، اسے یہ اندیشہ نہیں کہ مہلت مل جانے سے کوئی شخص اس کی گرفت سے بچ کر نکل جائے گا۔ جلدی وہ کیا کرتا ہے جسے شکار کے نکل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
Top