Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 19
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠   ۧ
اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ : مہربان ہے اپنے بندوں پر يَرْزُقُ : رزق دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَهُوَ الْقَوِيُّ : اور وہ قوت والا ہے الْعَزِيْزُ : غلبے والا ہے
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ 34 جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے، 35 اور وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ 36
سورة الشُّوْرٰی 34 اصل میں لفظ لَطِیْفٌ استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم " مہربان " سے ادا نہیں ہوتا۔ اس لفظ میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑی شفقت و عنایت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے جن تک کسی کی نگاہ نہیں پہنچ سکتی، اور انہیں اس طرح پورا کرتا ہے کہ وہ خود بھی محسوس نہیں کرتے کہ ہماری کونسی ضرورت کب کس نے پوری کردی۔ پھر یہاں بندوں سے مراد محض اہل ایمان نہیں، بلکہ تمام بندے ہیں، یعنی اللہ کا یہ لطف اس کے سب بندوں پر عام ہے۔ سورة الشُّوْرٰی 35 مطلب یہ ہے کہ اس لطیف عام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ سب بندوں کو سب کچھ یکساں دے دیا جائے۔ اگرچہ وہ اپنے خزانوں سے دے سب ہی کو رہا ہے، مگر اس عطا اور دین میں یکسانیت نہیں ہے۔ کسی کو کوئی چیز دی ہے تو کسی دوسرے کو کوئی اور چیز۔ کسی کو ایک چیز زیادہ دی ہے تو کسی اور کو کوئی دوسری چیز فراوانی کے ساتھ عطا فرما دی ہے۔ سورة الشُّوْرٰی 36 یعنی اس کی عطا و بخشش کا یہ نظام اس کے اپنے زور پر قائم ہے۔ کسی کا یہ بل بوتا نہیں ہے کہ اسے بدل سکے، یا زبردستی اس سے کچھ لے سکے، یا کسی کو دینے سے اس کو روک سکے۔
Top