Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 19
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠   ۧ
اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ : مہربان ہے اپنے بندوں پر يَرْزُقُ : رزق دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَهُوَ الْقَوِيُّ : اور وہ قوت والا ہے الْعَزِيْزُ : غلبے والا ہے
اللہ نرمی رکھتا ہے اپنے بندوں پر روزی دیتا ہے جس کو چاہے اور وہی ہے زور آور زبردست
خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ جو دنیا کی ناز و نعمت پر مغرور ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں اور یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ اگر ہمارا عمل اللہ کی رضا کے خلاف ہوتا تو ہم کو یہ عیش و عشرت کیوں دیتا خوب سمجھ لو کہ یہ ان کی بھول ہے، یہ دنیا کی دولت و نعمت دلیل رضا نہیں بلکہ اس کی وجہ تو یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ (دنیا میں) اپنے بندوں پر (عام طور سے) مہربان ہے (اسی رحمت عامہ کے سبب سب کو روزی دیتا ہے صحت و تندرستی دیتا ہے جس میں مصالح و حکمت کی بنا پر کمی و بیشی بھی ہوتی ہے کہ) جس کو (جس قدر) چاہتا ہے روزی دیتا ہے (مگر نفس روزی سب میں مشترک ہے) اور (دنیا میں اس لطف و مہربانی سے یہ سمجھ لینا کہ ان کا طریقہ حق ہے اور آخرت میں بھی لطف و مہربانی جاری رہے گی سراسر دھوکہ ہے۔ وہاں تو ان کے اعمال بد پر عذاب ہوگا جو کوئی مستبعد نہیں کیونکہ) وہ قوت والا زبردست ہے (غرض ان کی ساری خرابیوں کی جڑ دنیا پر مغرور ہونا ہے۔ ان کو چاہئے کہ اس سے باز آجائیں اور آخرت کی فکر کریں کیونکہ) جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو۔ ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (اعمال صالحہ کھیتی اور اس پر ملنے والا ثواب اس کا پھل ہے اور اس کی ترقی یہ ہے کہ ثواب مضاعف ملے گا، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا) اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو (یعنی سارے عمل و سعی کا مقصد دنیا کی متاع ہو، آخرت کے لئے کچھ کوشش نہ کرے) تو ہم اس کو کچھ دینا (اگر چاہیں) دے دیں گے اور آخرت میں اس کو کچھ حصہ نہیں (کیونکہ اس کی شرط ایمان ہے وہ ان میں ہے نہیں)۔

معارف و مسائل
اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ۔ لفظ لطیف لغت کے اعتبار سے چند معانی میں استعمال ہوتا ہے یہاں حضرت ابن عباس نے اس کا ترجمہ حفی بمعنی مہربان سے اور حضرت عکرمہ نے بار یعنی محسن سے کیا ہے۔
حضرت مقاتل نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے سبھی بندوں پر مہربان ہے۔ یہاں تک کہ کافر فاجر پر بھی دنیا میں اس کی نعمتیں برستی ہیں حق تعالیٰ کی عنایات اور لطف و کرم اپنے بندوں پر بیشمار انواع و اقسام کے ہیں۔ اس لئے تفسیر قرطبی نے لفظ لطیف کے معنی بھی بہت سے بیان فرمائے ہیں۔ اور حاصل سب کا لفظ حفی اور بار میں شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا رزق تو ساری مخلوقات کے لئے عام اور شامل ہے۔ دریا اور خشکی میں رہنے والے وہ جانور جن کو کوئی نہیں جانتا اس کا رزق ان کو بھی پہنچتا ہے۔ اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اس کا حاصل زیادہ واضح وہ ہے جس کو تفسیر مظہری نے اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رزق کی بیشمار اقسام و انواع ہیں۔ بقدر ضرورت معاش رزق تو سب کے لئے عام ہے۔ پھر خاص خاص اقسام رزق کی تقسیم میں اپنی حکمت بالغہ سے مختلف درجات اور پیمانے رکھے ہیں۔ کسی کو مال و دولت کا رزق زیادہ دے دینا۔ کسی کو صحت وقوت کا، کسی کو علم و معرفت کا کسی کو دوسری انواع و اقسام کا اس طرح ہر انسان دوسرے کا محتاج بھی رہتا ہے اور یہی احتیاج ان کو باہمی تعاون و تناصر پر آمادہ کرتی ہے جس پر تمدن انسانی کی بنیاد ہے۔
حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا کہ رزق کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی بندوں پر دو طرح کی ہے اول تو یہ کہ ہر ایک ذی روح کو اس کے مناسب حال غذاء اور ضروریات عطا فرماتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی کو اس کا پورا رزق عمر بھر کا بیک وقت نہیں دے دیتا، ورنہ اول تو اس کی حفاظت کرنا مشکل ہوجاتا اور کتنی بھی حفاظت کرتا وہ پھر بھی سڑنے اور خراب ہونے سے بچتا۔ (مظہری و مثلہ فی القرطبی)
ایک مجرب عمل
مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا۔ اور فرمایا کہ بہت مجرب عمل ہے۔ آیت یہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔
(آیت) اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ
Top