Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 19
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠   ۧ
اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ : مہربان ہے اپنے بندوں پر يَرْزُقُ : رزق دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَهُوَ الْقَوِيُّ : اور وہ قوت والا ہے الْعَزِيْزُ : غلبے والا ہے
اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ بڑا ہی صاحب قوت ، زبردست ہے
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور اپنے قانون کے مطابق رزق دیتا ہے 19 ؎ انسانی حوائج و ضروریات سے اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے کیونکہ اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ان کا رزاق و منتظم بھی ہے اور اس سے زیادہ کوئی عنایت و شفقت رکھنے والا ہو ہی نہیں سکتا بلاشبہ وہ نہایت ہی باریک بیں ہے جو انسانوں کی مخفی اور پوشیدہ ضرورتوں سے بھی واقف ہے اور ان کی کمزوریوں کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور انسانوں کے اتنا قریب ہے کہ کوئی انسان خود بھی اپنے آپ کو اتنا قریب نہیں ہو سکتا نہ تو اس کا اپنا کیا زیادہ دیر یاد رہتا ہے اور نہ ہی جو ابھی اس نے کرنا ہے اس سے آگاہ ہے لیکن اس کے برعکس اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ جس کو ہر انسان کا کیا بھی معلوم ہے اور ابھی اس کو کرنا ہے اس سے بھی وہ اچھی طرح باخبر ہے۔ ہر ذی روح کے رزق دینے پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور اپنے قانون مشیت کے مطابق جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے ، جس کا چاہتا ہیرزق کشادہ کردیتا ہے۔ جب انسانوں کی ساری ضروریات رزق ہی کے ضمن میں آتی ہیں اور بہت قوت والا اور بڑا ہی زبردست ہے کہ کسی قوت والے کی قوت اور کسی زور آور کا زور اس کے سامنے نہیں چلتا اور انسانوں کے سارے انتظامی امور اسی کے دست قدرت میں ہیں اور ان انتظامی امور کا کسی کے حق و باطل ہونے سے کوئی تعلق نہیں کہ اہل حق کا رب وہ ہے تو اہل باطل کا بھی بلاشبہ رب وہی ہے اور یہ سب سوانگ اسی کے رچائے ہوئے ہیں اور سب نیک و بد کی پیشانی کے بال اسی کے دست قدرت میں ہیں۔
Top