Bayan-ul-Quran - An-Nahl : 70
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ
كَمَثَلِ : حال جیسا الَّذِيْنَ : جو لوگ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل قَرِيْبًا : قریبی زمانہ ذَاقُوْا : انہوں نے چکھ لیا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ : اپنے کام کا وبال وَلَهُمْ : اور ان کے لئے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا وبال چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے
کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الحشر : 15) (یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا وبال چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ ) بنو نضیر کے انجام کی مثال منافقین جن لوگوں کو شہ دے رہے تھے ان کا جو انجام ہونے والا ہے، اس کی ایک مثال ارشاد فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان منافقین نے اس سے پہلے بنوقینقاع کو اسی طرح ابھار کر مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کی ترغیب دی اور ان سے غلط وعدے کیے، بالآخر ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ اپنی کثرت تعداد اور اپنے سروسامان کے باوجود مدینے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ اب یہ بالکل اسی طرح بنونضیر کو بھی شہ دے رہے ہیں کہ تم بھی ڈٹ جاؤ، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ لیکن جو انجام بنو قینقاع کا ہوا، ان کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ لیکن انھیں معلوم نہیں کہ مدینے سے اخراج تو صرف دنیا میں ان کی رسوائی ہے لیکن یہ آخری سزا نہیں اصل سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ وہ عذاب بنوقینقاع کے انتظار میں بھی ہے اور بنونضیر بھی اسی سے دوچار ہونے والے ہیں۔
Top