Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 11
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
فَاعْتَرَفُوْا : تو وہ اعتراف کرلیں گے بِذَنْۢبِهِمْ : اپنے گناہوں کا فَسُحْقًا : تو لعنت ہے۔ دوری ہے لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں کے لیے
( اس طرح) وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے، پس لعنت ہو ان دوزخ والوں پر
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ ج فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 11) ( اس طرح) وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے، پس لعنت ہو ان دوزخ والوں پر۔ ) اوپر ان لوگوں کے اعتراف کی تفصیل گزری۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے اور اعتراف کے اہم اجزاء کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اعتراف اس وقت ہوا جب چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔ لیکن اس اعتراف سے انھوں نے اس بات کی تصدیق کردی کہ انھیں جہنم میں بھیج کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ ان کی اپنی بداعمالیوں اور افکار کی خرابیوں کا نتیجہ تھا۔ ان کے زندگی بھر کے فکری اور عملی گناہوں کو صرف ” ذنب “ کے واحد لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اصل گناہ اور قصور جس کی وجہ سے وہ جہنم کے مستحق ہوئے، رسولوں کا جھٹلانا اور ان کی پیروی سے انکار کرنا ہے باقی سارے گناہ اس کی فرع ہیں۔
Top