Mafhoom-ul-Quran - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
اور جو لوگ بِن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے
اللہ کا ڈر، مغفرت کا سبب اور عذاب کی مختلف صورتیں تشریح : اصل میں نیکی بدی میں فرق کرنا اور سیدھا راستہ اختیار کرنا انسان کی عظمت ہے اور ایسے لوگ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رب سے زیادہ خبر رکھنے والا رزق دینے والاحفاظت کرنے والا رحمت کرنے والا اور بخشش کرنے والا اور کوئی نہیں وہ اکیلا ہے جس میں یہ تمام اور بیشمار صفات اور قدرتیں موجود ہیں۔ اسی نے پیدا کیا ہے وہی ماردے گا اور پھر اسی کے پاس چلے جانا ہے۔ اگر اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ لیں تو یہی فائدے کا سودا ہے ” اس لیے جس کے دل میں اس کا خوف ہوگا وہی جیت گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے۔ مومن اپنے گناہوں کو اس نظر سے دیکھتا ہے کہ گویا وہ ایک پہاڑی کے نیچے بیٹھا ہے اور برابر ڈر رہا ہے کہ کہیں یہ پہاڑی اس پر گر نہ جائے اس کے بر خلاف بد کار اپنے گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے گویا اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ سبحان اللہ کیسی پتے کی بات بتائی ہے رسول پاک ﷺ نے اللہ نہ کرے کہ کوئی غافل ہوجائے اپنے رب سے اپنے آپ سے اور اپنی موت سے اور اس رب کریم سے جس نے اس کو زمین دی آسمان دیا روزی رزق اور سب سے بڑی نعمت پانی کی دی۔ اگر ان تمام نعمتوں میں سے کوئی نعمت یا کوئی ایک نعمت بھی کم ہوجائے یا بند ہوجائے تو ہر کم عقل سے کم عقل بھی اس کا اندازہ کرسکتا ہے کہ بارش کی کمی ” خشک سالی اور کنوؤں ” ندی نالوں اور دریاؤں چشموں میں پانی کی کمی تمام مخلوق خدا کے لیے کس قدر پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ کوئی ہے جو اللہ کے سوا ہمیں ان تمام چیزوں کے متبادل کوئی چیز دے سکے یا ان کی کمی کو پورا کرسکے ؟ ہرگز نہیں یہ سب کچھ ہمیشہ سے اللہ کی قدرت میں ہے اسی کے قبضہ میں ہے اور رہے گا۔ اتنی چھوٹی سی بات بندے کو اگر سمجھ میں نہ آئے تو پھر سوائے افسوس کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ یہ تو ہوگئی عام سی بات اب ذرا اللہ کی اس وسیع و عریض کائنات کی بات ایک سائنسدان کی زبان میں ہوجائے جو آئے دن تحقیق و جستجو میں لگا رہتا ہے کہ آخر یہ نظام دنیا کل کائنات، صبح، شام، رات، دن گرمی، سردی، بہار، برسات یہ زمین آسمان اور اس میں پیدا کی گئی کروڑوں قسم کی مخلوقات سمندر پہاڑ اور نہ جانے کیا کچھ۔ یہ اتنی بڑی دنیا کیا ایک ہی پیدا کی گئی ہے یا کہ اس جیسی کوئی اور دنیائیں بھی موجود ہیں ؟ تحقیق کے بعد وہ اپنے تجربات سے قرآن پاک کے اس لفظ کی تفسیر سائنس کی زبان میں یوں کرتا ہے۔ یعنی عالمین بہت سے عالم۔ سلطان بشیر محمود صاحب اس کی تفصیلات یوں لکھتے ہیں : سائنسی مشاہدہ ہے کہ صرف ہماری ایک کہکشاں میں سورج کی طرح کے بلین (اربوں) شمسی نظام ہیں۔ کوئی بعید نہیں کہ ان میں سے کروڑوں نظاموں میں ہماری دنیا کی طرح زندگی کے آثار موجود ہوں۔ ان میں سے ہر ایک کو اپنی باری پر قیامت کا انتظار ہے۔ یوں کائنات میں ہر سو زندگی اور موت ” تخلیق در تخلیق کا شاندار منظر جاری وساری ہے۔ آج کے خلائی سائنس دان اپنی دوربینوں سے کائنات میں نت نئے مناظر کے شاہد ہیں ہر گھڑی ایک نئی شان نظر آتی ہے۔ یہ بانکپن ” سرعت ” وسعت اور ستاروں کی حیات و ممات کا سلسلہ اور تخلیق درتخلیق کا مسلسل عمل کائنات کا حسن ہے۔ اور اس کے ارتقاء کا مقدر ہے۔ سورة الرحمن کی آیت 29 انہی عظیم حقائق کی منظر کشی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ خالق کائنات ایک دفعہ دنیا بنا کر فارغ نہیں بیٹھ گیا بلکہ اس کا تخلیقی امر ہر آن پوری آب و تاب سے آسمانوں کی وسعتوں پر حکومت کرتا ہے۔ فرمایا۔ ہر روز وہ ایک نئی شان سے ظاہر ہوتا ہے۔ (رحمن :29) آج کا سائنسدان جدھر بھی نگاہ اٹھاتا ہے وہ قرآن حکم کی اس آیہ مبارکہ کی تفسیر پاتا ہے کہ کائنات میں ستارے ایسے ہی مرتے اور پیدا ہوتے رہتے ہیں جیسے زمین پر حیاتیاتی نظام چل رہا ہے۔ کہ کسی کی موت واقع ہو رہی ہے اور کوئی اس عالم رنگ وبو میں قدم رکھ رہا ہے۔ (قیامت از حیات بعد الموت) کیا یہ کافی نہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ اللہ عظیم ہے خبیر ہے حفیظ ہے خالق اعلیٰ اور مالک الملک ہے ہمیں اس نے پیدا کیا ہے نعمتیں دی ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا ہم اس کو مالک واحد مانتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور پھر یہ جان کر کہ ضرور ہی اس کے سامنے حاضر ہو کر اپنے کئے گئے اعمال کا بدلہ پانا ہے۔ جو کہ اگر اچھا ملا تو وہ اس دنیا کی تمام نعمتوں سے کئی گناہ زیادہ بہترین ہوگا اور اگر برا ہوا تو وہ بھی اس دنیا کی تمام سزاؤں سے کئی گنا زیادہ ہیبت ناک ہوگا۔ اور پھر یہ بھی بتا دیا گیا ہے اور عبرت کے لیے دکھا دیا گیا ہے کہ برے اعمال کی سزا اس دنیا میں تباہی و بربادی کی صورت میں مل جاتی ہے۔ اللہ کو غصہ آجائے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ پتھروں کی بارش ” زلزلے “ زور کی چنگھاڑ غرض کچھ بھی کرسکتا ہے نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے جیسا کہ یہ سب کچھ نافرمان قوموں پر ہو بھی چکا ہے۔ اس لیے اب بھی وقت ہے توبہ کرنے کا اور اللہ کے فرمانبردار بن جانے کا۔ اس لیے ہوش کرو اور سیدھے چلو تاکہ سرخرو ہوسکو۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی مہربان اور حد سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ اپنے بندوں کو سمجھانے کے لیے پھر ایک اور آسان سی نشانی بتاتا ہے جو اس کی قدرت خلاقی اور عظمت کا پتہ دیتی ہے۔ آیت 19 ۔ اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ لفظ امسک اس حقیقت کو واضح کر رہا ہے کہ اللہ نے پرندوں کو اپنی کس حکمت عملی سے قبضہ میں کر رکھا ہے ” پکڑنا ” تھامنا یا روکنا۔ یہ چھوٹی سی آیت بہت بڑے مفہوم کو سمیٹے ہوئے ہے۔ موریس بوکائلے کی تحریر سے ہم اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ جدید ترین تحقیقات پر سائنس نے دریافت کیا ہے کہ تمام جانداروں کے ہر خلیہ میں ایک کیمیاوی مرکب ڈی این اے ہوتا ہے۔ یہ بہت معمولی قسم کا کیمیاوی مرکب ہے۔ اس کی شکل ایک گول زینہ کی طرح ہوتی ہے اور یہ خرد بینی کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ جس میں احکام کے یاد کرائے ہوئے حافظہ کی لاتعداد نقلیں ہوتی ہیں جن کو کوڈ (رمز) کہتے ہیں جب یہ خلیہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے تو ہر حصہ کو اپنے اپنے کام کے لحاظ سے یہ نقلیں بھی مل جاتی ہیں۔ احکام کا یہ ٹیپ ریکارڈ ہر خلیہ میں صحیح وقت اور موقعہ پر احکام جاری کرتا رہتا ہے کہ خلیہ کو اب کیا کام کرنا ہے۔ یہ کوڈ اسی حساب سے احکام جاری کرتے رہیں گے جو اس کو خلیہ کی تقسیم کے وقت اس نقل میں ملے تھے ان احکام کی تلاش میں ڈی این اے اور یہ کوڈ (رمز) دریافت ہوئے ان رموز کو کون واضح کرتا ہے اور کیوں ؟ ابھی تک سائنس اس کو سمجھنے سے قاصر ہے بنانا تو درکنار (ازبائبل قرآن اور سائنس) مگر سائنسدان اس شعبہ میں بھی بڑی محنت سے لگے ہوئے ہیں۔ مذکورہ کتاب میں ہی درج ذیل اشعار از ڈاکٹر قیوم پاشازبیری ملاحظہ ہوں۔ ڈی این اے کے یہ کوڈ خلیات میں تحریر ہے ایک نوشتہ جو ہے احکام کی تعمیر ڈی کوڈ یہ جب ہوتی ہے لکھی ہوئی تقدیر آتی ہے نظر فعل کی صورت میں یہ تفسیر یہ دیکھ کے سمجھو کہ ضرورت ہے خدا کی ماخوذ از بصیرت موریس مزید حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ پروفیسر ہمبرگ اپنی کتاب طاقت اور کمزوری میں مٹن برڈ کے جو بحر الکاہل کے علاقہ میں رہتی ہے ” مشہور واقعہ کی مثال پیش کرتے ہیں کہ وہ پندرہ ہزار پانچ سو میل کا سفر انگریزی کے ہندسہ 8 کی شکل میں ترتیب پا کر طے کرتی ہے۔ یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ اس قسم کے سفر کے لیے یہ انتہائی پیچیدہ ہدایات اس پرندے کے محض اعصابی خلیات میں ہی شامل ہوسکتی ہے۔ وہ بےانتہا واضح طور پر منضبط ہوتے ہیں لیکن اس انضباط کو وجود میں لانے والا کون ہے ؟ مزید لکھتے ہیں۔ یہ اس سفر کو چھ ماہ میں طے کرتی ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ کی تاخیر سے پھر اسی جگہ واپس آجاتی ہے جہاں سے روانہ ہوئی تھی۔ یہ معمولی مثال ہے مگر یہ اور اس طرح کی بیشمار نشانیاں ہمارے چاروں طرف بکھری پڑی ہیں ہم خود ” ہمارا جسمانی و روحانی نظام ہمیں اللہ کے وجود اور وحدانیت کا سبق دیتے ہیں۔ مگر اس سبق کو حاصل کرنے کے لیے ایمان قرآن اور سنت رسول ﷺ میں بصیرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ عقل اللہ نے اسی لیے دی ہے کہ اس ذات کی عبادت کرو۔ اس ذات پر بھروسہ کرو جس نے تمہیں بنایا تمہارے لیے کائنات کو بنایا اور پھر تم لوٹ کر اسی کی پناہ میں جاؤ گے تو ظاہر ہے وہ خالق ومالک اپنے پسندیدہ بندوں کو پسندیدہ پناہ دے گا اور ناپسندیدہ بندوں کو ناپسندیدہ جگہ میں پناہ دے گا۔ اب فیصلہ خود آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے رستہ پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو۔ (22) اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ سیدھے رستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
Top