Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 21
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہے، وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ شخص جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبَّا عَلٰی وَجْھِہٖٓ اَھْدٰٓی اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الملک : 22) (بھلا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہے، وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ شخص جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے۔ ) انسان کے بگاڑ کے اصل اسباب کفار ِمکہ جو آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت، آپ ﷺ کے پیغام کی فصاحت و بلاغت اور آپ ﷺ کی عظمت کردار کے باوجود بھی آپ ﷺ کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پائی جاتی ہے۔ اور دوسری وجہ پیش نظر آیت کریمہ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کا رویہ اور ان کا طرزعمل دو باتوں کی غمازی کرتا ہے اور یہی درحقیقت ان کی دو بیماریاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ زندگی کے معاملات میں جن کا تعلق بالخصوص اخلاق اور اجتماعی زندگی سے ہے ایک خاص روش رکھتے ہیں اور وہ روش یہ ہے کہ ان معاملات میں وہ غوروفکر، تجربے، عقل و شعور اور صاحب الرائے لوگوں کی رہنمائی لینے کی بجائے جو طریقہ انھیں اپنے آبائواجداد اور اپنے ماحول سے ملا ہے اندھوں کی طرح سر جھکائے اسی پر چلنا صحت و صداقت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ عقل بیشک ان باتوں کو قبول نہ کرے، اخلاق بیشک اس کی مخالفت کریں، لیکن وقت کا چلن اگر اس کی تائید کرتا ہے تو وہ نہ عقل کی بات سنتے ہیں اور نہ اخلاق کی۔ وہ اپنے رسم و رواج کو سب سے بڑی دلیل سمجھتے ہیں اور زندگی کے بارے میں ان کے تصورات ایک جگہ جامد ہوچکے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہوس کی حکمرانی اور اسبابِ دنیا کی محبت نے انھیں ایسا اندھا کیا ہے کہ اب ان کا چلن کتے کے چلن کے مشابہ ہو کر رہ گیا ہے۔ جس طرح کتا زمین پر چلتا ہوا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کہیں سے بوئے طعام آجائے اور میں اسے کھود کر نکال لوں، ممکن ہے کہیں ہڈی چھپی ہوئی ہو۔ خواہش کا غلام بھی خواہشوں کی تکمیل میں سر جھکائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتا رہتا ہے۔ ایسا شخص ظاہر ہے کہ کبھی راہ ہدایت نہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر داہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ وہ عقل کی بات بھی سنتا ہے اور نصیحت کی بات بھی۔ وہ خواہشوں کو مقاصدِ زندگی میں تبدیل ہونے نہیں دیتا۔ وہ اپنی حیثیت کا تعین کرنے کے بعد بندگی کی شاہراہ پر بندگی ہی کے تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سیدھا سفر کرتا ہے۔ اس طرح اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ انسانی اور حیوانی زندگی میں یہی بنیادی فرق ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مستوی القامت پیدا فرمایا ہے۔ جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا پیدا نہیں کیا گیا۔ یہ سر اٹھا کر اور دائیں بائیں دیکھ کر چلتا ہے۔ اور جانور صرف خواہشِ طعام میں سر جھکا کے چلتا رہتا ہے کیونکہ اس کی زندگی کا سفر معدے سے شروع ہو کر معدے پر ختم ہوتا ہے، یہی اس کا مطاف ہے۔ لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے بندہ شکم نہیں، اپنا بندہ بنایا ہے۔ اس لیے اس کی زندگی کی تگ و تاز کا میدان بڑا وسیع ہے۔
Top