Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
سو کیا جو شخص منہ کے بل گر کر اوندھا چل رہا ہو وہ شخص زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ شخص جو سیدھے راستے پر چل رہا ہو ؟
جو شخص اوندھا منہ کر کے چل رہا ہو کیا وہ صراط مستقیم پر چلنے والے کے برابر ہوسکتا ہے ؟ ان آیات میں پہلے تو کافر اور مومن کی مثال بیان فرمائی ارشاد فرمایا کہ ایک شخص منہ کے بل گرا ہوا ہے اور اسی طرح اوندھا چل رہا ہے (یہ کافر کی مثال ہے) اور ایک وہ شخص ہے جو ٹھیک راستے پر جا رہا ہے نہ اسے گرنے کا خطرہ ہے نہ پھسلنے کا ڈر ہے (یہ مومن کی مثال ہے) بتاؤ ان دونوں میں صحیح راہ پر کون ہے اور دونوں میں کون بہتر ہے۔ ظاہر ہے ایک سمجھدار آدمی اس کو بہتر اور صحیح راہ پر بتائے گا جو اعتدال کے ساتھ ٹھیک طریقہ سے سیدھے راستہ پر جا رہا ہے جس میں نہ کجی ہے نہ پھسلنے کا خطرہ ہے مومن اس صفت سے متصف ہے اور اس کی حالت ہر طرح سے اوندھے منہ چلنے والے کافر سے بہتر ہے۔
Top