Mutaliya-e-Quran - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟
[اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : تو کیا وہ جو چلتا ہے ][ مُكِبًّا : اوندھا کرنے والا ہوتے ہوئے (خود کو)][ عَلٰي وَجْهِهٖٓ: اپنے چہرے کے بل ][ اَهْدٰٓى: زیادہ ہدایت پر ہے ][ اَمَنْ يَّمْشِيْ : یا وہ جو چلتا ہے ][ سَوِيًّا : کامل (سیدھا) ہوتے ہوئے ][ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھے راستے پر ] (آیت۔ 22) یَمْشِیْ فعل لازم ہے۔ اس لیے مُکِبًا اور سَوِیًّا اس کے مفعول نہیں ہوسکتے بلکہ یہ حال ہیں۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 22 ۔ میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ان لوگوں پر یہ آیت کی راہ کیوں نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے۔ اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کے بجائے ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھیں بند کیے اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ ہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے انسان کو مستوی القامت پیدا کیا، جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا۔ لیکن بہت سے انسان جانوروں ہی کی روش کی تقلید کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اس اعلیٰ خصوصیت کو کھو بیٹھتے ہیں جو انسان کا اصلی شرف ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خواہش کے پیچھے چلنے والوں کی مثال قرآن میں جگہ جگہ جانوروں سے دی گئی ہے۔ (تدبر قرآن)
Top