Tafseer-e-Usmani - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا ایک جو چلے اوندھا اپنے منہ کے بل وہ سیدھی راہ پائے یا وہ شخص جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر5
5  یعنی ظاہری کامیابی کی راہ طے کر کے وہی مقصد اصلی تک پہنچے گا جو سیدھے راستہ پر آدمیوں کی طرح سیدھا ہو کر چلے۔ جو شخص ناہموار راستہ پر اوندھا ہو کر منہ کے بل چلتا ہو اس کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔ یہ مثال ایک موحد اور ایک مشرک کی ہوئی۔ محشر میں بھی دونوں کی چال میں ایسا ہی فرق ہوگا۔
Top