Al-Qurtubi - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو
افمن یمشی مکبا علی وجھۃ اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کی مثال بیان فرمائی ہے مکباً وہ اپنے سر کو جھکائے ہوئے ہے وہ اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا نہ دائیں دیکھ سکتا ہے اور نہ بائیں دیکھ سکتا ہے۔ وہ لڑکھڑانے اور منہ کے بل گرنے سے امن میں نہیں ہوتا جس طرح وہ آدمی جو سیدھا اعتدال سے چلتا ہے جبکہ وہ سامنے، اپنی دائیں جانب اور اپنی بائیں جانب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ دنیا میں ہے۔ یہ جائز ہے کہ مراد اندھا ہو جو راستہ کی طرف ہدیات نہیں پاتا تو وہ بھٹک جاتا ہے وہ ہمیشہ منہ کے بل گرتا رہتا ہے۔ وہ اس آدمی کی طرح نہیں جو سیدھے قد والا، صحیح، دیکھنے والا ہے اور راستہ میں چلتا ہے اور ہدایت پاتا ہے۔ قتادہ نے کہا : مراد کافر ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر منہ کے بل گرا رہتا ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل ہی گرائے گا۔ حضرت ابن عباس اور کلبی نے کہا، افمن یمشی مکبا علی وجھۃ سے مراد ابوجہل ہے اور الذی یمشی سویا سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت حمزہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت عمار بن یاسر ہیں، یہ عکرمہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کافر و مومن کو عام ہے یعنی کافر نہیں جانتا کہ کیا وہ حق پر ہے یا باطل پر ہے یعنی کیا یہ کافر زیادہ حق پر ہے یا مسلمان حق پر ہے جو سدیھا اور اعتدلا کے ساتھ چلتا ہے جبکہ وہ راستہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ علی صراط مستقیم۔ اس سے مراد سالام ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اکب باب افعال ہو تو لازم استعمال ہوتا ہے اور کب مجرد ہو تو متعدی اسعتمال ہوتا ہے جیسے کبہ اللہ لوجھہ۔
Top