Tafseer-e-Majidi - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
سو کیا جو شخص اپنے منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو کیا وہ بہتر رہرو ہوگا یا وہ جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو ؟ ،18۔
18۔ آیت کے اندر پہلی مثال کافر کی ہے، اور دوسری مثال مومن کی (آیت) ” افمن یمشی .... وجھہ “۔ کافر کا راستہ ہی زیغ وضلالت کا ہوتا ہے، اور وہ سر کے بل گرتا ہی جاتا ہے ہلاکتوں میں اس کا نقطہ نظر ہی کائنات کی ہر شے سے متعلق اوندھا ہوتا ہے۔ (آیت) ” امن ..... مستقیم “۔ مومن سیدھے قد کے ساتھ تنا ہوا چلتا ہے۔ افراط وتفریط کے غاروں، گڑھوں سے بچتا ہوا۔
Top