Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
بتائو وہ کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے، اگر رحمن اپنا رزق روک لے، دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں
اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُـکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَـہٗ ج بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّوَّنُفُوْرٍ ۔ (الملک : 21) (بتائو وہ کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے، اگر رحمن اپنا رزق روک لے، دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں قریش کی ہٹ دھرمی قریشِ مکہ اور دیگر منکرین سے سوال کیا جارہا ہے کہ تم جو اللہ تعالیٰ کے دین کی بات سننے کے روادار نہیں ہو اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی دشمنی پر اس لیے تلے ہوئے ہو کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے تمہاری یہ سرکشی اور بےنیازی کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے خوشحالی عطا فرمائی ہے۔ اس کے گھر کی برکتوں سے تمہارے تجارتی راستے کھلے ہیں۔ عرب کے تمام قبائل راستے مخدوش ہونے کی وجہ سے جن تجارتی منڈیوں تک نہیں پہنچ سکتے، تم صرف اس لیے پہنچ جاتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے گھر کے متولی اور خدمت گزار ہو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر بجالاتے اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے دین کی علمبرداری کرتے۔ لیکن تم نے تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے اس کے پیغمبر کی دشمنی اور اس کے دین کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ جس پروردگار نے تمہیں رزق کے وسائل عطا فرمائے ہیں اگر وہ چاہے تو رزق کے ان سوتوں کو خشک نہیں کرسکتا۔ تمہاری زندگی کے بیشتر معاملات کا دارومدار نزول باراں پر ہے۔ اگر وہ اس کا نزول روک دے تو تم قحط کا شکار ہوجاؤ۔ اسی طرح تمہارے باقی وسائل کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کردے یا تم پر جنگ کے بادل مسلط کردے، تو بتائو تم اللہ تعالیٰ کا کیا بگاڑ سکتے ہو اور اپنی زندگی کی بقاء کا کیا سروسامان کرسکتے ہو۔ تمہاری احتیاج اور تمہاری بےبسی تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بات بھی تمہیں حق کی طرف لانے کی بجائے حق سے دور کیوں لے جارہی ہے۔ تم اپنی بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی عنایات کو دیکھتے ہوئے بھی نہ جانے کیوں اس کا دین اختیار کرنے اور اس کے فرمانبردار بندے بننے کے لیے تیار نہیں ہو۔ پھر خود ہی پروردگار نے اس کا سبب بیان فرمایا، کہ بات دراصل یہ ہے کہ تمہارے اندر ایک سرکشی پیدا ہوگئی ہے اور حق بیزاری تمہارا رویہ بن گیا ہے اور سچائی اور دین کی ہر بات سے تمہیں کد اور ضد ہوگئی ہے۔ تو جس قوم کو یہ بیماریاں لاحق ہوجائیں انھیں کوئی بات سمجھانا ممکن نہیں ہوتا۔ بات اسے سمجھائی جاسکتی ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو، لیکن جہاں ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہوجائے وہاں بات سمجھانا تو اپنا سر پھوڑنے کے سوا اور کچھ نہیں۔
Top