Tafseer-e-Saadi - Ash-Shura : 46
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ
اِسْتَجِيْبُوْا : مان لو۔ قبول کرلو لِرَبِّكُمْ : اپنے رب کے لیے (اپنے رب کی بات کو) مِّنْ : سے قَبْلِ : اس (سے) پہلے اَنْ يَّاْتِيَ : کہ آجائے يَوْمٌ : ایک دن لَّا مَرَدَّ لَهٗ : نہیں پھرنا اس کے لیے۔ ٹلنا اس کے لیے مِنَ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے مَا لَكُمْ : نہیں تمہارے لیے مِّنْ مَّلْجَاٍ : کوئی جائے پناہ يَّوْمَئِذٍ : اس دن وَّمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ نَّكِيْرٍ : کوئی انکار کرنا
اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں
آیت 46 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں تنہا ہے۔ (ومن یضلل اللہ) جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے (فمالہ من ولی م بعدہ) ” تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ “ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہنمائی کرے۔ (وتری الظلمین لما راوا العذاب) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کر تتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ (یقولون ھل الی مرد من سبیل) اور کہیں گے : کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے ؟ ان کی یہ درخواست ایک امر محال کے لئے ہوگی جس کا پورا ہونا ممکن نہیں۔ (وترھم یعرضون علیھا) ” اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوزخ (کی آپ) کے سامنے لائے جائیں گے۔ “ (خشعین من الذل) یعنی آپ ان کے اجسام کو اس ذلت کی وجہ سے عاجز اور بےبس دیکھیں گے جو ان کے دلوں میں جاگزیں ہے (ینظرون من طرف خفی) یعنی وہ جہنم کو اس کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے چوری چوری ترچھی نظر سے دیکھیں گے۔ (وقال الذین امنوا) جب مخلوق کا انجام ظاہر ہوجائے گا اور اہل صدق دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوجائیں گے تو اہل ایمان کہیں گے : (ان الخسرین) حقیقت میں خسارے والے وہ لوگ ہیں (الذین خسروآ انفسھم واھیلھم یوم القیمۃ ” جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ “ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو بےپایاں ثواب سے محروم کرلیا اور درد ناک عذاب کو حاصل کیا۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور وہ ان کے ساتھ کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔ (الا ان الظلمین) ” آگاہ رہو ! بیشک ظالم ہی۔ “ یعنی جنہوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (فی عذاب مقیم) ” ہمیشگی کے عذاب میں رہیں گے۔ “ یعنی وہ درد ناک عذاب کے عین وسط میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکل سکیں گے نہ ان سے عذاب منقطع ہوگا اور وہ اس عذاب کے اندر سخت مایوس ہوں گے۔ (وما کان لھم من اولیآء ینصرونھم من دون اللہ) ” اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں۔ “ جیسا کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو امیدیں دلایا کرتے تھے، پس قیامت کے روز ان پر اور دوسرے لوگوں پر عیاں ہوجائے گا کہ وہ اسباب جن کے ساتھ انہوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، منقطع ہوگئے اور جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا تو ہوہ ان سے ہٹایا نہ جاسکے گا۔ (ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل) ” اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کے لئے کوئی راستہ نہیں۔ “ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حاصل کرسکے۔ یہ لوگ اس وقت گمراہ ہوئے جب یہ سمجھتے تھے کہ ان خود ساختہ شریکوں میں نفع پہنچانے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت ہے، تب ان کی گمراہی واضح ہوجائے گی۔
Top