Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 46
وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ
وَمَا كَانَ : ور نہ ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مِّنْ اَوْلِيَآءَ : کوئی اولیاء۔ مددگار يَنْصُرُوْنَهُمْ : جو مدد کریں ان کی مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ : اور جس کو بھٹکا دے اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور اللہ کے سوا وہاں ان کے لیے کوئی دوست نہ ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں اور جن کو اللہ (اپنے قانون کے مطابق) گمراہ کر دے ان کے لیے کوئی راہ (نجات) نہیں (دُنیا میں نہ آخرت میں)
اللہ تعالیٰ پکڑ لے تو اس کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں سکتا 46 ؎ یہ اس دن کی حالت بیان کی جا رہی ہے جو عدل اور انصاف کا دن ہے اور جس روز کو آج دنیوی زندگی میں سچے دل سے کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ لاریب جن لوگوں نے اس کو مانا ہے وہ بھی رسماً اس کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اور پھر من مانیاں کرنے کے لیے انہوں نے اکثر موہوم سہارے بنا رکھے ہیں اور انہی سہاروں کے بل بوتے پر وہ سب کچھ کیے چلے جا رہے ہیں کہ ہم کو ہمارے یہ پیرو مرشد جن کو ہم شیرنیاں پیش کرتے ہیں اس روز کے عذاب سے بچوا لیں گے ، ہماری سفارش کردیں گے اور سفارش سے ایسے ایسے کام بھی ہوجاتے ہیں جو بظاہر کبھی ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے پھر یہ لوگ اللہ کے پیارے ہیں اور جس طرح کوئی شخص بھی اپنے کسی پیارے اور عزیز کی بات بہرحال مانتا اور تسلیم کرتا ہے اللہ بھی یقینا ان کی مانے گا اور ان کی بات کو تسلیم کرے گا۔ یہ ہمارے سفارشی ہوں گے تو اللہ میاں کو بہرحال چھوڑنا ہی پڑے گا۔ ان کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ یہ مہوم سہارے تمہیں کچھ کام نہیں دیں گے اور تمہاری اس پتنگ کی ڈور بہرحال اس روز کاٹ دی جائے گی اس طرح کا کوئی تعلق اور سہارا تمہارے کام نہیں آئے گا۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے تحت گمراہ کر دے اس کے لیے کوئی راہنما نہیں ہے جو سیدھی راہ پر اس کو چلا دے بلکہ وہ ہمیشہ اسی گمراہی میں رہتے ہوئے ایک روز اس گمراہی کے بدلے میں دھر لیا جائے گا اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے پکڑ لیا تو کوئی مائی کا لال ایسا نہیں ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا لے۔ اس کی مزید وضاحت دیکھنا چاہتے ہو تو عزوۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 165 تا 167 کی تفسیر کو پڑھیں۔
Top