Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 46
وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ
وَمَا كَانَ : ور نہ ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مِّنْ اَوْلِيَآءَ : کوئی اولیاء۔ مددگار يَنْصُرُوْنَهُمْ : جو مدد کریں ان کی مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ : اور جس کو بھٹکا دے اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں
(42:46) وما کان : میں ما نافیہ ہے۔ وما کان لہم من اولیاء ینصرونھم من دون اللّٰہ۔ ای وما کان لہم من دون اللّٰہ من اولیاء ینصرونھم اللہ کے درے ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا کہ ان کی مدد کرسکے۔ ینصرونھم : ینصرون مضارع جمع مذکر غائب نصر (باب نصر) مصدر (کہ) وہ مدد کرسکیں ۔ یا مدد کریں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ومن یضلل اللّٰہ۔ جملہ شرط۔ فما لہ من سبیل جواب شرط۔ یضلل مضارع مجزوم (بوجہ عمل من شرطیہ) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر اور جس کو اللہ گمراہ کر دے۔ (یہ اضلال ان لوگوں کے عدم تلاش حق کی پاداش میں ہوگا۔ اور یہ اضلال کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف ہمیشہ تکوینی حیثیت سے بطور مسبب الاسباب کے ہوگی۔ (تفسیر ماجدی) فما میںجواب شرط کے لئے ہے ما نافیہ ہے فما لہ من سبیل : ای فمالہ من طریق الیٰ ھدایتہ فی الدنیا والی الجنۃ یوم القیامۃ۔ اس کے لیے دنیا میں ہدایت کا کوئی راستہ اور آخرت میں جنت تک رسائی کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔
Top