Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 46
وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ
وَمَا كَانَ : ور نہ ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مِّنْ اَوْلِيَآءَ : کوئی اولیاء۔ مددگار يَنْصُرُوْنَهُمْ : جو مدد کریں ان کی مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ : اور جس کو بھٹکا دے اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور وہاں ان کے لئے نہ کوئی ایسے حامی ہوں گے (نہ مددگار) جو ان کی کوئی مدد کرسکیں اللہ کے مقابلے میں اور جس کو اللہ ہی ڈال دے گمراہی (کے ہولناک گڑھے) میں پھر اس کے لئے (نجات کی) کوئی سبیل ممکن نہیں
93 ظالموں کی لیے کوئی حمایتی اور کارساز نہیں ہوگا : جو ان کی وہاں کوئی حمایت یا کارسازی کرسکے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ظالموں کیلئے کوئی کارساز نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی کوئی مدد کرسکے۔ سو دنیا میں یہ لوگ جن کو اپنا حاجت روا و مشکل روا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے وہاں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ لکڑ پتھر وغیرہ کے بتوں میں تو سرے سے اس کی کوئی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں کہ وہ کسی کے کچھ کام آسکیں۔ اور اللہ کے جن دوسرے نیک بندوں کو یہ مشرک لوگ دنیا میں اپنا حاجت روا و مشکل کشا مانتے اور ان کو اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے پکارا کرتے تھے وہ نہ صرف یہ کہ ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے بلکہ وہ صاف وصریح طور پر ان کے اس شرک کا انکار کردیں گے۔ اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوْنُوْا لَہُمْ عِزًّا، کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِمْ ضِدًّا } ۔ (مریم :81- 82) ۔ پس ظالموں کیلئے کوئی بھی ایسا یار و مددگار اور حامی و سرپرست نہیں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی کسی بھی طرح کی کوئی مدد کرسکے۔ بلکہ معاملہ اس دن سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوگا ۔ { وَالاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ } ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Top