Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 17
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
کیا تم اس سے جو آسمانوں میں ہے بےخوف ہوگئے کہ وہ تم پر تند ہوا چلائے ؟ تب تم جانو گے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا
17 ؎ گزشتہ آیت میں زمین کی طرف سے عذاب کے اٹھ کھڑے ہونے کا ذکر تھا اور اس کے نتیجے میں ان کو غرق ہونے کے عذاب سے ڈرایا گیا تھا اور زیر نظر آیت میں آسمان کی طرف سے کسی عذاب کے نازل ہوجانے کا خوف دلایا جا رہا ہے اور مراد یہی ہے کہ انسانوں کو ہر لحاظ سے احکام خداوندی کی پابندی لازم ہے اور ان کو عذاب الٰہی سے نچنت ہو کر زندگی نہیں گزارنا چاہئے بلکہ قانون الٰہی کے تابع ہو کر رہنا چاہئے۔ یہ زندگی تو سب کی عارضی زندگی ہے نہ اس میں اچھوں کو باقی رہنا ہے اور نہ بروں کو لیکن اتنی بات تو یقینی ہے کہ نیک لوگ بحمد اللہ یہاں بھی سرخرو ہوں گے اور آخرت میں بھی وہ کامیاب و کامران ہوں گے اور بروں کا انجام اس جگہ بھی خراب ہے اور آخرت کی بربادی بھی ان کا مقدر ہوگی۔ (حاصبا) ہر اس آفت کو کہتے ہیں جو زمین کے اندر سے نہیں بلکہ زمین و آسمان کے اس خلا سے پیدا ہوجائے مثلاً تیز و تند ہوا ہے جس میں پتھر اور مٹی ہو۔ ایسی سخت لو بیے مراد ہو سکتی ہے جو سخت گرمی کے باعث ہر ایک چیز کو جلا کر رکھ دے اور ظاہر ہے کہ گرمی سورج کی تمازت ہی سے پیدا ہوتی ہے اور اس سے مراد وہ کہر اور پالا بھی ہو سکتا ہے جو زمین کی چیزوں کو جوہری بھری نظر آتی ہے ایک ہی رات میں جلا کر رکھ دیتا ہے اور آسمان سے اترنے والے وہ اولے بھی ہو سکتے ہیں جن کے اترنے سے زمین کی ساری فصلیں اور باغات تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بہرحال اس سے مراد ہر وہ آفت ہو سکتی ہے جس کا تعلق زمین کے اندر کے حالات کے ساتھ نہ پایا جاتا ہو۔ فرمایا اگر کوئی اس طرح کی آفت نازل ہوجائے گی تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کا ڈرانا کیسا ہی ڈرانا ہے اور وہ کس طرح نچنت ہونے والوں کو مہبوت بنا کر رکھ دیتا ہے اگر اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو سورة الاعراف اور سورة ہود ، سورة الشعراء وغیرہ میں مختلف قوموں اور ان کے نبیوں کے حالات و واقعات کو پڑھو تو تم کو اس کی شہادت روز روشن کی طرح مل جائیں گی اور تمہارے سارے وہم دور ہوجائیں گے اور یقین ہوجائے گا کہ جب حکم الٰہی آجاتا ہے تو پھر وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا جو اس کی زد میں آتا ہے وہ تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔
Top