Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 27
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب رَاَوْهُ : وہ دیکھ لیں گے اس کو زُلْفَةً : نزدیک سِيْٓئَتْ : بگڑ جائیں گے وُجُوْهُ الَّذِيْنَ : چہرے ان لوگوں کے كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا وَقِيْلَ : اور کہہ دیاجائے گا هٰذَا الَّذِيْ : یہ ہے وہ چیز كُنْتُمْ : تھے تم بِهٖ : ساتھ اس کے تَدَّعُوْنَ : تم تقاضا کرتے
پھر جس وقت وہ اس وعدے کو قریب آتے دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہی تو ہے جس کا تم تقاضا کیا کرتے تھے
ہاں ! جونہی اس آنے والی کو لوگ دیکھیں گے تو منکرین کے چہرے اترنا شروع ہوجائیں گے 27 ؎ ہاں ! جس بات کا مجھے علم دیا گیا ہے اس کو مجھے آگے پہنچانے میں کوئی دیر نہیں ہے۔ میں تم کو یہ بات کہوں گا کہ وہ جب آئے گی اور اس کو آتے لوگ دیکھیں گے تو یہ بات مجھ کو بتائی گئی کہ منکرین کے چہرے تو اس کے نشانات کو دیکھتے ہی اتر جائیں گے اور ان کے بگڑتے چہروں کے سامنے بزور آواز دے کر کہا جائے گا کہ یہ آنے والی آگئی ہے اور بلاشبہ یہ وہی ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا اور آج جو لوگ جلدی مچا رہے ہیں وہ تو خیر مچا ہی رہے ہیں لیکن اس وقت بھی ان کے ساتھی موجود ہوں گے اور ان کے چہرے قیامت کے آثار دیکھتے ہی اترنا شروع ہوجائیں گے اور ان کی شکل و صورت اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی اور بالکل وہی کیفیت ہوگی جو انسان کی موت کے وقت ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بگڑی ہوئی ہوگی۔ اس کا نقشہ آنے والی سورتوں میں پیش کیا گیا ہے آپ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جو صورت کسی پیٹو کی ہیضے کے وقت ہوتی ہے اگر کبھی آپ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ اچانک رخساروں کی سرخی غائب ہوجائے گی ، ہونٹ لٹکنے لگیں گے ، زبان باہر نکل آئے گی ، آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور حواس باختہ ہوجائیں گے اور دماغی توازن کھو بیٹھیں گے اور وہ عجیب سی حرکات و سکنات کرتے ہوں گے اور جب وہ منظر شروع ہوجائے گا جو ہر طرف دھڑام دھڑام کا شروع ہوگا اور فلک کے ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنا شروع ہوجائیں گے تو وہ حالت ایسی ہوگی کہ اس کا نقشہ کوئی چالاک سے چالاک انسان بھی اتارنے سے معذور ہوجائے گا اور ہر طرف آواز بلند ہوں گی تو کان یہی سنیں گے کہ بس وہی ہے جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے اور جس کے لئے تمہارے کئی ساتھی جلدی جلدی کا شور مچاتے اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ (تدعون) تم آرزو کرتے ہو۔ تم آرزو کرو گے ، تم مانگتے ہو ، تم مانگو گے ، تم چاہتے ہو ، تم چاہو گے۔ ادعاء سے جس کے معنی دعویٰ کرنے ، آرزو کرنے اور خود کو کسی چیز کی طرف نسبت کرنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر (کنتم بہ تدعون) جس چیز کی تم آرزو کرتے تھے ، جس چیز کو تم چاہتے تھے ، جس چیز کو تم مانگتے تھے ، جس چیز کی تم آرزو کیا کرتے تھے۔
Top