1 یعنی مصائب و شدائد کے ہجوم میں نہ گھبراہٹ کی کوئی بات کہی نہ مقابلہ سے ہٹ جانے اور دشمن کی اطاعت قبول کرنے کا ایک لفظ زبان سے نکالا۔ بولے تو یہ ہی بولے کہ خدا وندا ! تو ہم سب کی تقصیرات اور زیادتیوں کو معاف فرما دے ہمارے دلوں کو مضبوط و مستقل رکھ، تاکہ ہمارا قدم جادہ حق سے نہ لڑکھڑائے اور ہم کو کافروں کے مقابلہ میں مدد پہنچا وہ سمجھے کہ بسا اوقات مصیبت کے آنے میں لوگوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کو دخل ہوتا ہے اور ہم میں کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس سے کبھی کوئی تقصیر نہ ہوئی ہوگی۔ بہرحال بجائے اس کے کہ مصیبت سے گھبرا کر مخلوق کی طرف جھکتے اپنے خالق ومالک کی طرف جھکے۔
Top