Tibyan-ul-Quran - An-Nisaa : 138
اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ
الَّذِيْنَ : جو لوگ يَتَّخِذُوْنَ : پکڑتے ہیں (بناتے ہیں) الْكٰفِرِيْنَ : کافر (جمع) اَوْلِيَآءَ : دوست مِنْ دُوْنِ : سوائے (چھوڑ کر) الْمُؤْمِنِيْنَ : مومن (جمع) اَيَبْتَغُوْنَ : کیا ڈھونڈتے ہیں ؟ عِنْدَھُمُ : ان کے پاس الْعِزَّةَ : عزت فَاِنَّ : بیشک الْعِزَّةَ : عزت لِلّٰهِ : اللہ کے لیے جَمِيْعًا : ساری
تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لئے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔
لیکن اللہ ان لوگوں کو خالص اپنی رحمت کی وجہ سے مہلت دیتا ہے اور ان پر وہ ہلاکت نہیں لاتا جس کے لئے وہ جلدی کر رہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد مقرر ہے۔ یعنی دنیا میں بھی ان پر عذاب الٰہی کے نزول کے لئے وقت مقرر ہے اور پھر آخرت میں ان کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس میں انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے چونکہ ظلم کیا ہے اس لئے یہ لوگ بھی امم سابقہ کی طرح ہلاکت کے مستحق قرار پا چکے ہیں۔ لیکن اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق چونکہ ان کے لئے ایک مہلت مقرر کر رکھی ہے اس لئے اللہ ان کو اس طرح ہلاکت سے دوچار نہیں کر رہا ہے جس طرح اللہ نے ظالم امم سابقہ کو ہلاک کیا۔ ہاں ان کے لئے علیحدہ میعاد مقرر ہے۔
Top