Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 23
ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ
ءَاَتَّخِذُ : کیا میں بنا لوں مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اٰلِهَةً : ایسے معبود اِنْ : اگر يُّرِدْنِ : وہ چاہے الرَّحْمٰنُ : رحمن۔ اللہ بِضُرٍّ : کوئی نقصان لَّا تُغْنِ عَنِّىْ : نہ کام آئے میرے شَفَاعَتُهُمْ : ان کی سفارش شَيْئًا : کچھ بھی وَّلَا يُنْقِذُوْنِ : اور نہ چھڑا سکیں وہ مجھے
کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں ؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں
(36:23) ء اتخذ۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے اتخذ مضارع کا صیغہ واحد متکلم ہے اتخاذ (افتعال) مصدر۔ اختیار کرنا۔ کیا میں اختیار کروں۔ بھلا میں اختیار کرو۔ الھۃ۔ الہ کی جمع ہے۔ ء اتخذ من دونہ الھۃ۔ کیا میں اس کو (اللہ کو) چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنا لوں ان یردن الرحمن بضر (جملہ شرطیہ) لا تغن عنی شفاعتہم شیئا ولا ینقذون (جواب شرط) ۔ ان شرطیہ یردن مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان ) واحد مذکر غائب۔ ارادۃ مصدر (باب افعال) اصل میں یردنی تھا۔ ان کے عمل سے اخیر کی یا ساقط ہوگئی ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم مفعول، اگر وہ مجھ کو (دکھ پہنچانا) چاہے۔ لا تغن۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب، اغناء (افعال) مصدر کام آتا ہے۔ کفایت کرنا۔ بےپرواہ بنادینا۔ اصل میں تغنی تھا۔ عامل کے سبب سے آخر سے یا ساقط ہوگئی شفاعتہم مضاف مضاف الیہ، ان کی شفاعت۔ ہم ضمیر جمع مذکر کا مرجع الھۃ ہے۔ لا تغن عنی شفاعتہم شیئا۔ (تو) ان (معبودان باطل ) کی شفاعت یا سفارش میرے کسی کام نہ آسکے گی۔ مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گی۔ لا ینقذون۔ مضارع منفی (مجزوم بوجہ جواب شرط) جمع مذکر غائب۔ اصل میں یہ ینقذوننی تھا ۔ نون اعرابی مضارع مجزوم کی صورت میں گرگیا۔ نون مکسور نون وقایہ ہے۔ آخر میں یا متکلم بوجہ تخفیف محذوف ہوگئی ۔ انقاذ مصدر۔ (باب افعال) الانقاذ کے معنی کسی خطرہ یا ہلاکت سے خلاصی دینا ہے۔ مثلاً وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا (3:102) اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا۔ لا ینقذون۔ ای لا یخلصون من ذلک الضر۔ مجھے اس ضرر سے نہ بچا سکیں یا چھڑا نہ سکیں۔
Top