Anwar-ul-Bayan - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور مجھے کیا ہے کہ اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
(36:22) وما لی۔ واو عاطفہ ہے۔ جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا ! میرے پاس کوئی عذر نہیں۔۔ اور ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں یہ استفہام انکاری کے لئے ہے ترجمہ ہوگا ! میرے پاس عذر ہی کیا ہے کہ۔۔ (یعنی میرے پاس کوئی عذر ہی نہیں ہے) ۔ لا اعبد مضارع منفی واحد متکلم۔ (کہ ) میں عبادت نہ کروں۔ فطرنی۔ فطر ماضی واحد مذکر غائب فطر مصدر ( باب ضرب ونصر) بمعنی عدم سے وجود میں لانا۔ نیست سے ہست کرنا۔ پیدا کرنا۔ فطر کے معنی میں پھاڑنے کا مفہوم ضرور ہونا چاہیے ۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اس نے مجھے پیدا کیا۔ وہ عدم کے پردہ کو بھاڑ کر مجھے وجود میں لایا ۔ ترجعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رجع (باب ضرب) مصدر بمعنی لوٹانا۔ یا (بطور فعل لازم ) لوٹنا۔ تم لوٹائے جائو گے۔ علامہ پانی پتی (رح) صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ اس کلام میں لطیف طرز میں ہدایت کی ہے اپنے نفس کو نصیحت کرنے کے پیرایہ میں دوسروں کو خالص نصیحت کی ہے کہ دوسروں کو بھی اسی بات کو اختیار کرنا چاہیے جو ناصح نے اپنے لئے اختیار کی ہے۔ حقیقت میں کفار کو اس امر پر زجر کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے اپنے خالق کی عبادت کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت پسند کی ہے۔ اور بعض کے نزدیک وما لی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون جواب ہے، سوال محذوف کا۔ سوال کے متعلق دو روایات ہیں : (1) جب اقصا المدینۃ سے آنے والے نے آکر کر اپنی قوم سے کہا۔ یقوم اتبعوا المرسلین ۔۔ الخ تو قوم والوں نے کہا کہ :۔ کیا تو ہمارے مذہب کا مخالف ہوگیا ہے اور ان رسولوں کے مذہب کا پیرو ہوگیا ہے تو اس نے کہا ومالی لا اعبد۔۔ الخ۔ (2) بعض اہل روایت کا بیان ہے کہ جب اس شخص نے یقوم اتبعوا۔۔ کہا تو لوگ اس کو پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے بادشاہ نے اس سے کہا کیا تو ان رسولوں کا پیرو ہوگیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا :۔ وما لی ۔۔ الخ۔
Top