Tafseer-e-Baghwi - Saad : 63
اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ
اَتَّخَذْنٰهُمْ : کیا ہم نے انہیں پکڑا تھا سِخْرِيًّا : ٹھٹھے میں اَمْ : یا زَاغَتْ : کج ہوگئی ہیں عَنْهُمُ : ان سے الْاَبْصَارُ : آنکھیں
کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں ؟
63، اتخذناھم سخریا، اہل بصرہ اور اہل کوفہ نے اور حمز ہ کسائی نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مبتداء ہونے کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے الف کے قطع کے ساتھ فتحہ کے ساتھ استفہام کی وجہ سے۔ اہل معافی نے کہا کہ قرأت اولیٰ بہتر ہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ہم ان حضرات کے ساتھ مذاق اور ٹھٹھا کرتے ہیں، استفہام نہیں ۔ ام بمعنی بل کے ہے اور جو حضرات ہمزہ کے فتحہ کو پڑھتے ہیں۔ اس صورت میں ام معادلہ ہوگا۔ ، ام زاغت عنھم الا بصار، سے ۔ فراء کا قول ہے کہ یہ ہمزہ استفہام ہے اس کا معنی تو بیخ اور تعجب کے لیے ہے۔ ، ام زاغت ، ان کی طرف مائل ہونا۔ عنھم الابصار، اس کا معنی یہ ہے کہ ہمیں کیا ہوگیا کہ ہم ان لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں دیکھ رہے جن کا ہم مذاق اڑا رہے تھے یا وہ اس میں داخل ہوگئے لیکن ہم نے ان کو نہیں دیکھا یا وہ ہماری آنکھوں سے اوٹ میں ہیں۔ ابن کیسان نے کہا کہ کیا وہ ہم سے ، بہتر ہیں لیکن ہم لوگ نہیں جانتے۔
Top