Tafseer-e-Mazhari - Saad : 63
اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ
اَتَّخَذْنٰهُمْ : کیا ہم نے انہیں پکڑا تھا سِخْرِيًّا : ٹھٹھے میں اَمْ : یا زَاغَتْ : کج ہوگئی ہیں عَنْهُمُ : ان سے الْاَبْصَارُ : آنکھیں
کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں؟
اتخذناھم سخریا کیا ہم نے ان کی ہنسی بنا رکھی تھی ؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ ام زاغت عنھم الابصار یا ان سے ہماری نگاہ چوک رہی ہے (کہ ہم ان کو نہیں دیکھ پاتے) فراء نے کہا : یہ استفہام توبیخی تعجبی ہے اور ایک جملہ محذوف ہے ‘ پوری عبارت اسی طرح تھی : کیا بات ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کا ہم مذاق بنایا تھا ‘ کیا وہ یہاں نہیں ہیں یا ہماری نظریں چوک رہی ہیں ‘ اسلئے ہم کو یہاں وہ نظر نہیں آتے ؟
Top