Anwar-ul-Bayan - Saad : 63
اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ
اَتَّخَذْنٰهُمْ : کیا ہم نے انہیں پکڑا تھا سِخْرِيًّا : ٹھٹھے میں اَمْ : یا زَاغَتْ : کج ہوگئی ہیں عَنْهُمُ : ان سے الْاَبْصَارُ : آنکھیں
کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں ؟
(38:63) اتخذنھم سخریا۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اس کی وجہ سے ہمزہ وصل ساقط ہوگیا ہے۔ أ اتخذنھم ہم نے ان کو ٹھہریا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ سخریا۔ یہ سخر (باب سمع و سخر سے اسم ہے بمعنی ٹھٹھا۔ ہنسی، دل لگی۔ اور سخر یسخر (فتح) سخری سے مصدر بحالت نصب بھی۔ جس کے معنی مسخر ہونے اور بس میں آنے کے ہیں۔ لیکن یہاں اول الذکر ہی زیادہ موزوں ہے۔ سخریا۔ اتخذھم کا مفعول ثانی ہے ہم ضمیر جمع مذکر گا ئب مفعول اول ہے۔ اس لئے منصوب ہے۔ اتخذنھم سخریا جن کو ہم نشانہ تضحیک بنایا کرتے تھے ۔ جن کی ہم نے ہنسی بتا رکھی تھی۔ اور ہمزہ استفہامیہ کے ساتھ۔ کیا ہم نے یونہی ان کی ہنسی بنا رکھی تھی۔ (ان کا مذاق بنا رکھا تھا) ۔ ام۔ یا۔ بلکہ۔ زاغت۔ ماضی واحد مؤنث غائب زیغ (باب ضرب) بمعنی کج ہونا۔ چوک جانا۔ پھرجانا۔ الابصار۔ ای ابصارنا۔ ہماری نظریں (ان سے) چوک گئی ہیں۔ اتخذنھم ۔۔ الابصار کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً :۔ (1) اتخذنا استفہام توبیخی تعجبی ہے اور ایک جملہ محذوف ہے پوری عبارت اس طرح تھی (مالنا لاندی رجالا) اتخذنا ہم سخریا (الیسوا فیہا) ام زاغت الابصار (فلا نداھم) کیا بات ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کا ہم نے مذاق بنایا تھا کہ وہ یہاں نہیں ہیں یا ہماری نظریں چوک رہی ہیں اس لئے ہم ان کو نہیں دیکھتے۔ اس صورت میں ام بمعنی ” یا “ ہے۔ (2) یا أتخذنھم استفہام انکاری ہے اور ام بمعنی بل (حرف اضراب ہے) اس صورت میں ام کے ماقبل سے اعراض اور مابعد کی تصحیح مقصود ہے یعنی یہ نہیں کہ ہم ان کو یہاں اس لئے نہیں دیکھ رہے کہ ہم دنیا میں ان کا یوں ہی مذاق بنایا تھا۔ بلکہ بات یہ ہے کہ وہ یہاں موجود ہیں صرف ہماری نظریں اپنی چوک کی وجہ سے ان کو نہیں دیکھ رہیں ۔ مالنا لانراھم فی النار الیسوا فیہا فلذلک لانراھم بل ازاغت عنھم ابصارنا فلا نراھم وہم فیہا۔ فائدہ : آیات 59 تا 63 میں کونسا کلام کس کا ہے ؟۔ آیت 59 یہ جہنمی لوگ (گمراہ کرنے والے پیشوا اور اکابر کفار) اپنے تابعین کے ایک گروہ کو جہنم کی طرف آتا دیکھ کر آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے اس میں ضمیر جمع مذکر حاضر ان کے اپنے ساتھیوں کے لئے ہے اور ضمیر جمع مذکر غائب آنے والی جماعت کے افراد کے لئے۔ آیت 60:۔ آنے والی جماعت کا خطاب ہے پیشوا یا ن بالا سے۔ آیت 61:۔ یہ آنے والی جماعت کی اپنے رب سے اپنے پیشوایان بالا کے برخلاف بددعا ہے۔ آیت 62:63: یہ آنے والی جماعت کا کلام ہے یا ان کا اور ان کے پیشوایان متذکرہ بالا سب کا کلام ہے۔
Top