Madarik-ut-Tanzil - Saad : 63
اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ
اَتَّخَذْنٰهُمْ : کیا ہم نے انہیں پکڑا تھا سِخْرِيًّا : ٹھٹھے میں اَمْ : یا زَاغَتْ : کج ہوگئی ہیں عَنْهُمُ : ان سے الْاَبْصَارُ : آنکھیں
کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں ؟
63: اَتَّخَذْنٰـھُمْ سِخْرِیًّا (کیا ہم نے ان کا مذاق اڑا رکھا تھا) قراءت : یہ قراءت ابوعمرو ‘ حمزہ، کسائی کی ہے اور خبر کے انداز سے عراقی قراء نے سوائے عاصم کے پڑھا ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ رِجَالاً کی صفت ہے یہ کنانعدھم من الاشرار کی طرح ہے دیگر تمام قراء نے ہمزہ استفہام سے پڑھا ہے اس طرح تمسخر کا اپنے نفوس کے متعلق انکار ہے۔ مدنی، حمزہ، علی، خلف، مفصل نے سُخْریًا پڑھا ہے۔ اَمْ زَاغَتْ (یا چکرا رہی ہیں) عَنْہُمُ الْاَبْصَارُ (ان سے آنکھیں) یہ مالناؔ سے متصل ہے۔ مطلب یہ ہے مالنا لا نراھم فی النار کانہم لیسوا فیھا ؟ بل ازاغت عنہم ابصارنا فلانراہم وھم فیھا ؟ ہمیں کیا ہوا کہ ہم ان کو آگ میں دیکھ نہیں رہے گویا آگ میں نہیں ہیں ؟ بلکہ ہماری آنکھیں ان سے پھر گئیں جس کی بناء پر ہم ان کو دیکھ نہیں رہے اگر وہ اس میں ہیں ؟ انہوں نے اپنے معاملے کو دو باتوں میں منحصر کیا کہ آیا وہ اہل جنت سے ہیں یا اہل دوزخ سے ہر دو حالتوں میں ان کی جگہ ہمیں نظر نہیں آرہی۔
Top