Dure-Mansoor - Saad : 67
قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ
قُلْ : فرمادیں هُوَ : وہ ۔ یہ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ : ایک خبر بڑی
آپ فرما دیجئے کہ یہ بڑی خبر ہے
1:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابو نصرالسنجری نے الابانہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ (فرما دیجئے وہ ایک بڑی خبر ہے) یعنی قرآن مجید۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے الابانہ میں محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ یعنی تم نباعظیم کے بارے میں بحث کرتے رہتے ہو اسے اللہ کی طرف سے سمجھو۔ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ (مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے یعنی اس سے فرشتے مراد ہیں۔ جو آدم (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا کررہے تھے (آیت ) ” واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ، قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدمآء “ سے لے کر ” انی خالق بشرا من طین فاذاسویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوالہ سجدین “ تک یعنی اس کے بارے میں ملا اعلیٰ فرشتے آپس میں جھگڑا کررہے تھے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی “ (مجھے کوئی علم نہیں ملا اعلی کے بارے میں یعنی وہ فرشتے ہیں جب کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے موقع پر آپس میں مشورہ کیا اور اس بارے میں جھگڑا کیا کہنے لگے آپ زمین میں خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔ 4:۔ محمد بن نصر (رح) نے کتاب الصلاۃ میں وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ سے مراد وہ جھگڑا ہے جو آدم (علیہ السلام) کے بارے میں تھا (آیت ) ” اتجعل فیھا من یفسد فیھا “ (کیا آپ زمین میں خلفیہ بنانا چاہتے ہیں جو اس میں فساد کرے گا ) ملا اعلیٰ میں فرشتوں کے جھگڑے : 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتے ہو کس بارے میں فرشتے جھگڑ رہے تھے ؟ صحابہ (رح) نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جھگڑ رہے تھے تین کفاروں کے بارے میں ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا، جماعت کے لئے پیدل چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد بن حمید (رح) و ترمذی (رح) (وحسنہ) اور محمد بن نصر (رح) نے کتاب الصلوۃ روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کو میرا رب میرے پاس بہترین صورت میں آیا جتنا میں گمان کرتا ہوں اس نے مجھے خواب میں فرمایا اے محمد ! ﷺ کیا تو جانتا ہے کہ جس بات میں فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں (پھر) اللہ پاک نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا، یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا اور ” بین ثدی اور فی نحری فرمایا تو میں نے جان لیا زمین و آسمان کی اس چیز کو پھر فرمایا اے محمد ﷺ کیا تو جانتا ہے کس بارے اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : ہاں ! کفارات میں، اور نمازوں کے بعد میں ٹھہرے کے بارے میں اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کیلئے پیدل چلنے کے بارے میں اور ناگواریوں میں اچھی طرح وضو کرنے کے بارے میں اور جس نے ایسا کیا تو اس نے اچھی زندگی گزاری اور اپنے گناہوں سے (ایسا پاک ہوجائے گا) جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ اور فرمایا اے محمد جب تو نماز پڑھے تو یوں دعا کرے، اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا ردت بعبادک فتنۃ فاقبضین الیک غیر متفون۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے کا سوال کرتا ہوں اور برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور جب آپ اپنے بندوں کی آزمائش کا ارادہ فرمائیں تو مجھ کو اپنی طرف قبض کرلیجئے آزمائش میں ڈالے بغیر۔ اور فرمایا درجات سے مراد ہے سلام کو پھیلانا کھانا کھلانا اور رات کو نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔ گناہوں کے کفارات کیا ہیں ؟: 7:۔ ترمذی (رح) (صححہ) ومحمد بن نصر و طبرانی (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن صبح کی نماز میں ہمارے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیتے آپ جلدی سے باہر تشریف لائے اقامت کہی گئی رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو ایک کوڑا آپ نے منگوایا اور فرمایا اپنی صفوں میں رہو تم پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں تم کو بتانے والا ہوں کہ کس چیز نے مجھ کو تم سے روک دیا صبح کو یا رات کو کھڑا ہوا۔ اور میں نے نماز پڑھی جتنا میرے لئے ممکن تھا۔ اور نماز میں مجھے اونگھ آئی یہاں تک کہ میرے لئے نماز پڑھنا مشکل ہوگیا کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ کے ساتھ ہوں جو انتہائی حسین صورت میں ہیں۔ اور فرمایا : اے محمد ﷺ میں نے عرض کیا : اے میرے رب ! میں تعمیل کے لئے حاضر ہوں، فرمایا : کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں عرض کیا درجات کے بارے میں اور کفارات کے بارے میں فرمایا درجات کیا ہیں میں نے کہا کھانا کھلانا سلام پھیلانا اور رات کو نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں فرمایا تو نے سچ کہا فرمایا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کیلئے چل کر جانا فرمایا تو نے سچ کہا (پھر فرمایا) یہ پڑھا کر : اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین وان تغفرلی وترحمنی واذا ردت بعبادک فتنۃ فاقبضنی الیک غیر متفون۔ اللہم انی اسئلک حبک وحب من احبک وحب عمل بقربنی الی حبک۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے کا سوال کرتا ہوں اور برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ میری مغفرت فرما دیجئے اور مجھ پر رحم فرمائیے اور جب آپ اپنے بندوں کے ساتھ کسی آزمائش کا ارادہ فرمائیں تو مجھ کو اپنی طرف قبض کرلیجئے بغیرمفتون کے۔ اے اللہ آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کی محبت کا اور اس کی جو آپ سے محبت کرے اور ایسے عمل کا محبت کا سوال کرتا ہوں جب مجھے آپ کی محبت کے قریب کردے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم ان (کلمات) کو سیکھو اور ان کو یاد کرو کیونکہ (یہ کلمات) سچے ہیں۔ 8:۔ طبرانی (رح) علیہفی السنۃ وابن مردویہ (رح) نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرے لئے بہترین صورت میں ظاہر ہوا اور مجھ سے اوپر والے معزز فرشتوں کے بارے میں پوچھا کہ وہ کس بات میں جھگڑ رہے ہیں میں نے عرض کیا اے میرے رب ! میرے پاس ان کا کوئی علم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا پھر مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال فرمایا تو میں اس کو جانتا تھا پھر میں نے عرض کیا ہاں میرے رب وہ درجات میں اور کفارات میں جھگڑ رہے ہیں میں نے کہا درجات سے مراد ہے ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا پیدل جماعت کے لئے جانا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، کھانا کھلانا، سلام کرنا، اور رات کے وقت نماز پڑھنا لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ خواب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت : 9:۔ طبرانی (رح) فی السنۃ وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا فرمایا اے محمد ﷺ میں نے عرض کیا ” لبیک ربی وسعدیک “ میں نے (اس طرح) تین مرتبہ کہا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑے رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں (میں نہیں جانتا) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے کندھوں کے درمیان رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پالیا پس میں نے سمجھ لیا کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سوال کیا میں نے عرض کیا ہاں میرے رب ! وہ جھگڑا کرتے ہیں درجات اور کفارات کے بارے میں پھر میں نے کہا درجات یہ ہیں کہ ٹھنڈک کے وقت میں اچھی طرح وضو کرنا۔ اور جماعت کی طرف پیدل جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور کفارات یہ ہیں کھانا کھلانا سلام کو پھیلانا اور رات کو نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں 10:۔ طبرانی (رح) علیہفی السنۃ والشیرازنی فی الالقاب وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک ہم نے صبح کی ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہم کو خبر دیتے ہوئے فرمایا : میرا رب میرے پاس گزشتہ رات میری نیند میں بہت اچھی صورت میں تشریف لائے اور اپنا ہاتھ مبارک میری چھاتی اور میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا پھر مجھ کو ہر چیز کا علم عطا کردیا پھر فرمایا اے محمد ! میں نے کہا لبیک ربی وسعدیک “ پوچھا کیا تو جانتا ہے کہ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں اے میرے رب ! کفارات میں اور درجات میں (جھگڑتے ہیں) فرمایا : کفارات کیا ہیں ؟ میں نے کہا سلام پھیلانا۔ کھانا کھلانا، اور نماز میں پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں۔ فرمایا درجات کیا ہیں ؟ میں نے کہا ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور جماعت کے لئے پیدل جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا۔ 11:۔ ابن نصر و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے رب میرے پاس بہت اچھی صورت میں تشریف لائے اور اے محمد میں نے کہا ” لبیک وسعدیک “ فرمایا کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے کہا نہیں جانتا۔ پھر اللہ پاک نے اپنے ہاتھ مبارک کو میری چھاتی کے درمیان رکھ دیا میں نے اپنی نیدند میں ہی ہر چیز کو جان لیا جو انہوں نے مجھ سے سوال کیا دنیا اور آخرت کے کام میں سے۔ پھر فرمایا کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : درجات میں اور کفارات میں۔ اور درجات یہ ہیں کہ ٹھنڈی صبح میں اچھی طرح وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا فرمایا تو نے سچ کہا جو شخص یہ کام کرے تو ہو خیر کے ساتھ زندہ رہے گا۔ اور خیر کے ساتھ مرے گا اور اس کے گناہ اس طرح مٹ جائیں گے جیسے آج ہی اپنی ماں سے پیدا ہوا۔ اور کفارات یہ ہیں کہ کھانا کھلانا سلام پھیلانا اور اچھی بات کرنا اور نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں پھر فرمایا : اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین ومغفرۃ وان تتوب علی اذا اردت فی قوم فتنۃ فنجنی غیر متفون۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیکیوں کا کام کرنے اور برائیوں سے بچنے اور مسکینوں سے محبت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور میری توبہ قبول کیجئے اور جب آپ ارادہ کریں کسی قوم میں فتنے کا تو مجھ کو نجات دیجئے آزمائش میں ڈالے بغیر۔ 12:۔ طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ فرمایا درجات میں اور کفارات میں اور درجات یہ ہے کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، رات کو نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں، اور کفارات یہ ہیں : ٹھنڈی صبح میں اچھی طرح وضو کرنا اور جماعت کی طرف پیدل جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ 13:۔ ابن مردویہ (رح) نے عدی بن حاتم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے رات کو ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا تو فرمایا اے محمد ! ﷺ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑا کررہے ہیں ؟ پھر آگے حدیث کو ذکر فرمایا۔ 14:۔ طبرانی (رح) فی السنۃ اور خطیب (رح) نے ابوعیبدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی تو مٰن نے اپنے رب عزوجل کو بہت اچھی صورت میں دیکھا اور پوچھا اے محمد ! ﷺ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں میں نے کفارات اور درجات میں پوچھا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے کہا ٹھنڈی صبح میں اچھی طرح وضو کرنا اور جماعت کی طرف پیدل چل کرجانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا پھر پوچھا درجات کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا سلام کو پھیلانا رات کو کو نماز پڑھنا جبکہ سو رہے ہوں، پھر فرمایا کہہ دو میں نے کہا میں کیا کہوں ؟ فرمایا (یہ دعا کرو) : اللہم انی اسئلک عملا بالحسنات وترک المنکرات واذا ردت بقوم فتنۃ انا فیھم فاقبضنی الیک غیر متفون۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک عمل کرنے کا اور برائیوں کو چھوڑنے کا سوال کرتا ہوں اور جب آپ ارادہ فرمائیں کسی قوم کو فتنہ میں ڈالنے کا اور میں ان میں موجود ہوں تو مجھے اپنی طرف اٹھالیجئے آزمائش میں ڈالے بغیر۔ 15:۔ محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں اور طبرانی (رح) نے السنۃ میں عبدالرحمن بن عابس حضرمی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہم کو ایک صبح نماز پڑھائی ایک کہنے والے نے آپ سے کہا آج سے بڑھ کر ہم نے کبھی آپ کو زیادہ روشن چہرہ والا نہیں دیکھا آپ نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو اور میں نے یقینی طور پر اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا ہے پھر رب تعالیٰ نے پوچھا اے محمد ! کس بارے میں اوپر والے فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا کفارات میں۔ پوچھا وہ کیا ہیں ؟ میں نے کہا جماعت کی طرف پیدل جانا اور مساجد میں بیٹھنا نمازوں کے انتظار کے لئے اور وضو کرنا ان کی جگہوں میں پوچھا وہ کیا ہیں ؟ میں نے کہا جماعت کی طرف پیدل جانا اور مساجد میں بیٹھنا نمازوں کی انتظار کیلئے اور وضو کرنا ان کی جگہوں میں پوچھا اور کس کے بارے میں (فرشتے جھگڑ رہے ہیں) میں نے کہا درجات کے بارے میں پوچھا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : کھانا کھلانا، سلام کو پھیلانا، رات کو نماز پڑھناجب کہ لوگ سو رہے ہوں پھر فرمایا آپ یہ دعا کیجئے اللہم انی اسئلک الطیبات وترک المنکرات وحب المساکین فوالذی نفسی بیدہ انھن حق : ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے پاکیزہ چیزوں کا اور برائیوں کا چھوڑنے کا اور مسیکنوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ بلاشبہ سچی باتیں ہیں۔ 16:۔ ابن نصر و طبرانی نے السنۃ میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے صبح کی نماز کے بعد آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ میرا رب عزوجل میرے پاس بہت اچھی صورت میں تشریف لائے مجھ سے فرمایا اے محمد ! کیا تو جانتا ہے کہ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے رب ! میں نہیں جانتا پھر فرمایا اللہ پاک نے اپنے ہاتھ کو میرے کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا تو میرے لئے ہر چیز ظاہر ہوگئی آسمان اور زمین کے درمیان پھر میں نے کہا جی ہاں اے میرے رب ! وہ کفارات درجات میں جھگڑ رہے ہیں پوچھا درجات کیا ہیں۔ میں نے کہا کھانا کھلانا سلام پھیلانا اور رات کو قیام کرنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں اور کفارات یہ ہیں جماعت کی طرف پیدل چلنا اور ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا پھر فرمایا اے محمد کہہ دیجئے آپ کی بات سنی جائے اور سوال کر تو عطا کیا جائے اور سفارش کر تیری سفارشیں قبول کی جائیں گی میں نے کہا : اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین وان تغفرلی وترحمنی واذا ردت بعبادک فتنۃ فتوفی الیک وانا غیر مفتول : ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک کام کرنے اور برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ آپ مجھ کو بخش دیجئے اور مجھ پر رحم فرمائیے اور جب آپ ارادہ فرمائیں کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنے کا اور مجھے فوت کردیجئے (اس حال میں) کہ میں آزمائش میں ڈالا ہوا نہ ہوں۔ اللہم انی اسئلک حبک وحب من احبک وحب عمل یبلغنی الی حبک۔ ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے آپ کی محبت کا اور اس شخص کی محبت کا جو آپ سے محبت کرے کا سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھ کو آپ کی محبت کی طرف پہنچا دے۔
Top