Ruh-ul-Quran - Saad : 67
قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ
قُلْ : فرمادیں هُوَ : وہ ۔ یہ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ : ایک خبر بڑی
اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ وہ ایک عظیم خبر ہے
قُلْ ھُوَ نَبَـؤٌا عَظِیْمٌ۔ اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ ۔ (صٓ: 67، 68) (اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ وہ ایک عظیم خبر ہے۔ اور تم اس سے اعراض کررہے ہو۔ ) آنحضرت ﷺ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت نبی کریم ﷺ کی حیثیت اور آپ کے فریضہ منصبی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں جس بات سے انذار کررہا ہوں وہ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اس کے اقرار و انکار پر تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی و ناکامی کا انحصار ہے۔ کیونکہ جیسے پہلے رکوع میں کہا گیا کہ تمہارے لیے یہ بات نہایت اچنبھے کی ہے کہ تمہیں یہ کہا جائے کہ تم نے جو متعدد معبود اور اِلٰہ بنا رکھے ہیں، یہ سب غلط ہیں، اِلٰہ صرف ایک ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اور ان کے درمیان رہنے والی تمام مخلوقات کا رب ہے۔ تو تمہیں یہ بات ہضم نہیں ہوتی اور تم اسے بہت عجیب بات اور خطرناک بات سمجھتے ہو۔ حالانکہ اس کائنات کی حقیقت معرض خطر میں پڑجاتی ہے اگر اس کے خالق ومالک کا فیصلہ نہ کیا جائے۔ اس کے خالق ومالک اور اِلٰہ کی وحدانیت ہی اس کائنات کے وجود کی وہ حقیقی توجیہ ہے جس سے کائنات کی ایک ایک چول ٹھیک بیٹھ جاتی ہے۔ ورنہ بیشمار سوالات ہیں جن کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ اسی طرح انسان کے زمین پر خلیفہ ہونے اور اس کی زندگی کا ایک مقصد متعین ہونے اور پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے تصور کو قبول کرنے پر انسان کی تمام تر زندگی کا دارومدار ہے اور اسی سے اس کی دنیا و آخرت میں ایک رابطہ پیدا ہوتا ہے اور اسی سے اس کی زندگی کو ٹھیک نہج اور منزل ملتی ہے۔ اور اس کے لیے ایک صراط مستقیم کا تصور واضح ہوتا ہے۔ اندازہ کیجیے اگر اس کا انکار کردیا جائے تو یہ کتنے بڑے خطرے کی بات ہے۔ لیکن حیرانی یہ ہے کہ تم مسلسل اس سے اعراض کررہے ہو۔ تم نے شرک کو اپنا مذہب بنا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات کو نہ جانے کہاں کہاں تقسیم کر رکھا ہے، اپنی زندگی کو بےمقصد ٹھہرا کر اپنے آپ کو شتر بےمہار کا درجہ دے رکھا ہے۔ دنیا ہی کو اپنی زندگی کا حاصل قرار دے کر اپنی قوت تسخیر پر پہرے بٹھا رکھے ہیں اور اپنی ذات کو بلندیوں سے اتار کر حیوان کی سطح پر محدود کردیا ہے۔ اس کے جو خطرناک نتائج دنیا و آخرت میں نکلنے والے اور نکل رہے ہیں میں تمہیں اس سے خبردار کرنے کے لیے آیا ہوں۔
Top