Tafseer-e-Mazhari - Saad : 58
وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ
وَّاٰخَرُ : اور اس کے علاوہ مِنْ شَكْلِهٖٓ : اس کی شکل کی اَزْوَاجٌ : کئی قسمیں
اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)
واخر من شکلہ ازواج اور اسی قسم کی دوسری طرح طرح کی چیزیں (ان کیلئے) ہوں گی۔ ھٰذَایہ عذاب ہوگا ‘ یا ازطعام مہمانی یہ ہے۔ حَمِیْم گرم کھولتا ہوا پانی۔ غسّاقبروزن فعّال۔ غسّاق کا معنی مختلف طور پر کیا گیا ہے ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ایسی برفیلی سخت ٹھنڈک جو اس طرح دوزخیوں کو جلا دے گی ‘ جس طرح آگ اپنی گرمی سے جلائے گی۔ مجاہد اور مقاتل نے کہا : جس چیز کی برودت انتہائی درجہ کی ہو ‘ وہ غساق ہے۔ بعض نے کہا : یہ ترکی لفظ ہے ‘ ترکی زبان میں غساق انتہائی بدبودار چیز کو کہتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : غساق کا معنی ہے صبّاب یعنی سیال۔ غَسَقَتْوہ چیز بہہ گئی۔ اس جگہ مراد ہے : وہ پیپ اور کچ لہو جو دوزخیوں کی کھال اور گوشت اور زانیوں کی شرمگاہوں سے بہے گا۔ بیہقی نے عطیہ کا قول نقل کیا ہے کہ غساق سے مراد ہے سیال کچ لہو۔ ابراہیم اور ابو زرین کا بھی یہی قول منقول ہے۔ ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور ضیاء نے کعب کا قول بیان کیا ہے کہ غساق جہنم کے اندر ایک چشمہ ہے جس میں ہر زہریلے جانور ‘ جیسے سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع کردیا جائے گا ‘ پھر آدمی کو اس میں ایک غوطہ دیا جائے گا ‘ ایک ہی غوطے میں اس کی کھال اور گوشت ہڈیوں سے الگ ہو کر ٹخنوں میں جا پڑیں گے اور جس طرح آدمی کپڑا گھسیٹتا چلتا ہے ‘ اسی طرح دوزخی اس کو کھینچے کھینچے پھرے گا۔ وَاٰخَرُ مِنْ شَکْلِہٖ یعنی ایک اور عذاب ہوگا جو مذکورہ حمیم و غساق کی طرح ہوگا۔ اَزْوَاجٌ یہ قسم قسم کا ہوگا۔
Top