Tafseer-e-Mazhari - Saad : 68
اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ
اَنْتُمْ : تم عَنْهُ : اس سے مُعْرِضُوْنَ : منہ پھیرنے والے (بےپرواہ ہو)
جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے
انتم عنہم معرضون جس سے تم کترا رہے ہو۔ بعض کے نزدیک ھو سے مراد ہے روز قیامت۔ دوسری آیت میں آیا ہے : عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ - عَنِ النَّبَأِ الْعَظِیْمِاس آیت میں نباء عظیم سے مراد روز قیامت ہی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : مطلب یہ ہے کہ میں جو تم کو اطلاع سے رہا ہوں اور اس خدا کے عذاب سے جس کی یہ یہ صفات ہیں ‘ ڈرا رہا ہوں ‘ وہ عظیم الشان خبر ہے ‘ اس صورت میں آیت کا تعلق آیت اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ الاَّ اللّٰہ الْوَاحِدُ سے ہوگا۔ اَنْتُمْ عَنْہُ مُعْرِضُوْنَ یعنی اہل دانش کو مناسب نہیں کہ ایسی خبر سے اعراض کریں ‘ مگر تم غفلت میں ایسے سرگرداں ہو کہ اس کی طرف سے کترا رہے ہو۔ توحید ذاتی و صفاتی کی دلائل تو سطور بالا میں گذر چکیں ‘ نبوت کے ثبوت کا اظہار آئندہ آیت میں فرمایا۔
Top