Tafseer-e-Usmani - Saad : 68
اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ
اَنْتُمْ : تم عَنْهُ : اس سے مُعْرِضُوْنَ : منہ پھیرنے والے (بےپرواہ ہو)
کہ تم اس کو دھیان میں نہیں لاتے10
10 یعنی قیامت اور اس کے احوال کوئی معمولی چیز نہیں۔ بڑی بھاری اور یقینی خبر ہے جو میں تم کو دے رہا ہوں (عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ ۝ ۙ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْـتَلِفُوْنَ ۝ۭ ) 78 ۔ النبأ :2-1) مگر افسوس ہے کہ تم اس کی طرف سے بالکل بےفکر ہو۔ جو کچھ تمہاری خیر خواہی کو کہا جاتا ہے دھیان نہیں لاتے۔ بلکہ الٹا مذاق اڑاتے ہو کہ کب آئے گی۔ کیونکر آئے گی اور اتنی دیر کیوں ہی ہو رہی ہے اسے جلد کیوں نہیں بلا لیتے۔ وغیرہ ذالک۔
Top