Anwar-ul-Bayan - Saad : 67
قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ
قُلْ : فرمادیں هُوَ : وہ ۔ یہ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ : ایک خبر بڑی
کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے
(38:67) قل کو مکرریہ بتانے کے لیے لایا گیا ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ ایک عظیم الشان اور جلیل القدر امر ہے۔ ھو : ای ما انباتکم بہ من کوئی رسولا منذرا وان اللہ تعالیٰ واحدا لا شریک لہ۔ یعنی جو میں اپنے رسول من اللہ ہونے اور ڈرانے والا ہونے کیء متعلق اور اللہ کے واحد لاشریک ہونے کے متعلق تم کو بتارہا ہوں وہ (ایک عظیم خبر ہے) یعنی یہ مضمون رسالت و توحید ۔ بعض کے نزدیک ھو کا مرجع قرآن کریم ہے۔ نبؤ اعظیم موصوف وصفت۔ ای خبر ذو فائدہ عظمیۃ جدا لاریب فیہ اصلا ایک بہت بڑے فائدہ کی خبر میں ہرگز کوئی شک نہیں۔ بعض کے نزدیک ھو سے مراد روز قیامت ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے عم یتساء لون عن النبا العظیم (78:1-2) یہ لوگ کسی چیز کی نسبت پوچھتے ہیں کیا بڑی خبر کی نسبت (یعنی کیا یہ روز قیامت کی نسبت پوچھتے ہیں۔ بعض نے اس سے مراد بھی قرآن لیا ہے۔
Top