Tafseer-e-Mazhari - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں
اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشرا من طین جبکہ آپ کے رب نے ملائکہ سے فرمایا تھا کہ میں گارے سے ایک انسان کو بنانے والا ہوں۔ اِذْ قَالَ ‘ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَکا بدل ہے ‘ اور تشریح سے سورة بقرہ میں ملائکہ اور ابلیس کی تخلیق آدم اور ان کے استحقاق خلافت کے متعلق گفتگو اور ان کا مسجود ملائکہ ہونا تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے ‘ یہاں اس مفصل قصہ کو مختصر طور پر بیان کردیا گیا ہے اور قصہ کا جو اصل مقصد تھا ‘ اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ حضرت آدم کے مقابلہ میں ابلیس نے غرور کیا اور راندۂ درگاہ ہوگیا۔ مشرک بھی رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے ‘ ان کا بھی ابلیس کی طرح خوار و ذلیل ہونا ضروری ہے (یہ ہے اصل مقصود بیان) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی فرشتہ کی وساطت سے اللہ نے ملاء اعلیٰ سے کلام کیا ہو۔ یا ملاء اعلیٰ سے مراد کائنات بالا ہو ‘ جو اللہ اور ملائکہ سب ہی کو شامل ہے۔
Top