Urwatul-Wusqaa - Saad : 83
اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ
اِلَّا : سوائے عِبَادَكَ : تیرے بندے مِنْهُمُ : ان میں سے الْمُخْلَصِيْنَ : (جمع) مخلص
سوائے ان کے جو تیرے مخلص بندے ہیں
ابلیس نے اپنے دعویٰ سے اللہ کے بندوں کو خارج کردیا 83۔ ابلیس کا دعویٰ اپنی فطرت کے مطابق تھا کہ جب میں مجسمہ شر ہوں اور ڈھیل ومہلت مجھ کو تو نے دے ہی دی ہے تو اب میں اپنا کام پورے زور وشور سے جاری کروں گا اور تیرے ان انسانوں کو جن کو تو نے اشرف المخلوقات قرار دیا ہے ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا گویا یہ انسان کی اندرونی اس طاقت و قوت کا اعلان ہے جس کو ابلیس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور تفہیم کے لیے اس کو مشخص کیا گیا ہے اس نے انسانوں کو گمراہ کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا اس دعویٰ سے اللہ کے ان بندوں کو خود ہی خارج کردیا جو کبھی گناہ نہیں کرتے اور اگر ان سے گناہ ہوجاتا ہے تو وہ اس پر کبھی اصرار نہیں کرتے بلکہ اسی وقت اس گناہ کا سرسچی توبہ سے کوٹ دیتے ہیں اور جو گناہ ہوگیا تھا اس کے ہوجانے پر کسی کا گلہ نہیں کرتے بلکہ براہ راست اپنی غلطی تسلیم کرلیتے ہیں کہ اسی طاقت وقوت کی بےراہ روی ہے جس طاقت و قوت کہ ابلیس کہہ کر ان کی تفہیم کرائی گئی تھی۔
Top