Mualim-ul-Irfan - An-Nisaa : 133
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے (ایمان والے) كُوْنُوْا : ہوجاؤ قَوّٰمِيْنَ : قائم رہنے والے بِالْقِسْطِ : انصاف پر شُهَدَآءَ لِلّٰهِ : گواہی دینے والے اللہ کیلئے وَلَوْ : اگرچہ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ : خود تمہارے اوپر (خلاف) اَوِ : یا الْوَالِدَيْنِ : ماں باپ وَ : اور الْاَقْرَبِيْنَ : قرابت دار اِنْ يَّكُنْ : اگر (چاہے) ہو غَنِيًّا : کوئی مالدار اَوْ فَقِيْرًا : یا محتاج فَاللّٰهُ : پس اللہ اَوْلٰى : خیر خواہ بِهِمَا : ان کا فَلَا : سو۔ نہ تَتَّبِعُوا : پیروی کرو الْهَوٰٓى : خواہش اَنْ تَعْدِلُوْا : کہ انصاف کرو وَاِنْ تَلْوٗٓا : اور اگر تم زبان دباؤ گے اَوْ تُعْرِضُوْا : یا پہلو تہی کروگے فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ كَانَ : ہے بِمَا : جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو خَبِيْرًا : باخبر
اے مسلمانو ! ایمان لاؤ خدا پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور اس کتاب پر جو نازل کی اس سے پہلے اور جو کوئی منکر ہو وے اللہ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے پس تحقیق وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا
منافقوں کا ذکر اس آیت کا مطلب یہ ہے، ایمان پر ثابت رہو اے ایمان والو ! یہ خطاب مسلمانوں سے ہوا۔ رسول سے مراد آنحضرت ﷺ اور کتاب سے مراد قرآن پاک ہے۔ شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ مومنین اہل کتاب میں سے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور توریت پر اور حضرت عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے سوا باقی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لائیں گے۔ حضرت رسول ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب پر ایمان لاؤ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار نہ کرے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ایک رسول یا ایک کتاب کا انکار بھی سب کا انکار ہے، اگر دل سے ان سب پر ایمان نہ لائے تو خدا کے نزدیک مسلمان نہیں۔
Top